ڈبل سپر اوور اور اطالوی کرکٹرز کا رونا: ٹی20 ورلڈ کپ کے یادگار لمحات

انڈیا میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چند یادگار لمحات۔

جنوبی افریقہ کے بیٹر کوائنٹن ڈی کاک 11 فروری، 2026 کو احمد آباد میں آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے ایک گروپ میچ میں کریز تک پہنچنے کے لیے ڈائیو لگاتے ہوئے جبکہ افغانستان کے وکٹ کیپر رحمان اللہ گرباز ردعمل ظاہر کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انڈیا نے احمد آباد میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر اپنا اعزاز برقرار رکھا۔

یہاں اس میگا ایونٹ کے چند یادگار لمحات پیش خدمت ہیں۔

ڈبل سپر اوور
 
جنوبی افریقہ اور افغانستان کے درمیان گروپ میچ انتہائی سنسنی خیز رہا۔ دونوں ٹیموں نے 187، 187 رنز بنا کر میچ برابر کر دیا۔

اس کے بعد سپر اوور ہوا جو برابر رہا۔ دوسرے سپر اوور کی آخری گیند پر جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی اور یوں پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فاتح کا فیصلہ ڈبل سپر اوور کے ذریعے ہوا۔

افغانستان کے بیٹر رحمان اللہ گرباز کو چار گیندوں پر چار چھکوں کی ضرورت تھی، مگر وہ تین چھکے ہی لگا سکے اور چوتھی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔


آسٹریلیا کا حیران کن ایگزٹ

سابق چیمپیئن آسٹریلیا کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب انہیں گروپ میچ میں زمبابوے کے ہاتھوں شکست ہو گئی۔

آسٹریلیا 170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 146 رنز بنا سکا۔ اہم مگر زخمی فاسٹ بولرز پیٹ کمنز اور جاش ہیزل وڈ کی غیر موجودگی نے ٹیم کو مزید مشکلات میں ڈال دیا۔

اس کے بعد سری لنکا سے بھی شکست نے ان کی پوزیشن کمزور کر دی۔

زمبابوے اور آئرلینڈ کے درمیان بارش سے متاثرہ میچ کے نتیجے میں آسٹریلیا ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں جگہ نہ بنا سکا۔


میدان سے باہر کشیدگی
 
ٹورنامنٹ سے پہلے ماحول کافی کشیدہ رہا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت میں انڈیا کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا کیونکہ بنگلہ دیش کے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کیا تھا۔
 

آئی سی سی سے مذاکرات کے بعد پاکستان نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور یوں دونوں روایتی حریفوں میں بڑا مقابلہ شیڈول کے مطابق کولمبو میں کھیلا گیا۔

انڈیا نے یہ میچ جیت تو لیا لیکن میدان میں ماحول خاصا کشیدہ رہا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور کپتانوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔


مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنجو سیمسن کی شاندار واپسی

انڈین وکٹ کیپر بیٹر سنجو سیمسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم میچ میں ناقابل شکست 97 رنز بنا کر ٹیم کو 196 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دی اور سیمی فائنل تک پہنچایا۔

ابتدا میں وہ اوپنر کے طور پر ٹیم کا حصہ نہیں تھے، مگر ایک تبدیلی کے بعد انہیں موقع ملا۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں انہوں نے 50 گیندوں پر 12 چوکے اور چار چھکے لگا کر شاندار اننگز کھیلی۔

بعد میں انہوں نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 89 رنز بنائے اور فائنل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


فن ایلن کی ریکارڈ سینچری
 
نیوزی لینڈ کے اوپنر فن ایلن نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیمی فائنل میں صرف 33 گیندوں پر سینچری بنا کر ٹورنامنٹ کی تیز ترین سینچری کا ریکارڈ قائم کر دیا۔

انہوں نے 10 چوکے اور آٹھ چھکے لگائے اور 2016 میں کرس گیل کی 47 گیندوں پر بنائی گئی سینچری کا ریکارڈ توڑا۔


اٹلی کی تاریخی کامیابی
 
ٹورنامنٹ میں پہلی بار شرکت کرنے والی اٹلی کی ٹیم نے نیپال کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر اپنی پہلی تاریخی کامیابی حاصل کی۔
اس جیت کے بعد کئی اطالوی کھلاڑی خوشی سے آبدیدہ ہو گئے۔ قائم مقام کپتان ہیری مانینتی نے کہا کہ گروپ مرحلے کی جیت پر کھلاڑیوں کو روتے ہوئے کم ہی دیکھا جاتا ہے، مگر یہ اطالوی کھلاڑیوں کے جذبے اور کرکٹ سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ