بائیں جانب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سفید گنبدوں والی عظیم سمادھی موجود ہے، جو سنہری گنبد والے گردوارہ ڈیرہ صاحب سے کہیں بڑی دکھائی دیتی ہے، جبکہ دائیں جانب بادشاہی مسجد کے سفید سنگِ مرمر کے گنبد نظر آتے ہیں۔
چند روز قبل انڈیا سے تقریباً 700 سکھ یاتریوں کا ایک جتھا اٹاری۔واہگہ سرحدی گزرگاہ عبور کرکے پاکستان پہنچا تاکہ پانچویں سکھ گرو، سری گرو ارجن صاحب کی 420ویں برسی کے موقع پر لاہور قلعے کے قریب واقع گردوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کر سکے۔
تقریبات کا اختتام سری گرو گرنتھ صاحب کے اکھنڈ پاٹھ (مسلسل تلاوت) پر ہوا، جس کی ابتدائی تدوین خود گرو ارجن صاحب نے کی تھی۔
گرو ارجن صاحب 1563 میں موجودہ مشرقی پنجاب کے مقام گوئندوال صاحب میں پیدا ہوئے۔ وہ چوتھے سکھ گرو، سری گرو رام داس صاحب کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ گرو رام داس خود لاہور کے علاقے چونا منڈی میں پیدا ہوئے تھے، جو آج مغربی پنجاب کا حصہ ہے۔
پانچویں سکھ گرو ارجن صاحب نے 1581 سے 1589 کے درمیان امرتسر میں ہرمندر صاحب (موجودہ گولڈن ٹمپل) تعمیر کروایا۔ 1598 میں مغل بادشاہ اکبر نے امرتسر میں ان سے ملاقات کی اور پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکس اور اناج کی قیمتوں میں کمی کی۔ بعدازاں گرو ارجن صاحب نے آدی گرنتھ مرتب کی اور ستمبر 1604 میں اسے ہرمندر صاحب میں نصب کیا۔
گرو ارجن صاحب
روادار مغل بادشاہ اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر تخت نشین ہوا، جسے نسبتاً کم برداشت رکھنے والا حکمران سمجھا جاتا ہے۔ سکھ تاریخ کے مطابق چند منحرف سکھ گروہوں، خصوصاً پرتھی چند (جو گرو ارجن کے بڑے بھائی تھے اور اپنے والد کی جانب سے گدی نہ ملنے پر ناراض تھے) اور سکھ برادری کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خائف دیگر افراد کے اکسانے پر جہانگیر نے گرو ارجن صاحب کو گرفتار کر لیا۔
لاہور کے موچی گیٹ کے قریب لال کھوہی میں چندو شاہ کے ہاتھوں شدید تشدد کے بعد 16 جون 1606 کو لاہور قلعے کے نزدیک گرو ارجن صاحب کو قتل کر دیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق وہ غسل کے لیے دریائے راوی میں گئے اور پھر واپس نہ آئے، جبکہ دیگر روایات میں کہا گیا ہے کہ ان کے جسم کے ساتھ پتھر باندھ کر انہیں دریا میں پھینک دیا گیا۔
ان کی یاد میں چھٹے گرو، گرو ہرگوبند نے اسی مقام پر گردوارہ تعمیر کروایا، جسے بعد میں انیسویں صدی کے اوائل میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ازسرِنو تعمیر کروایا۔
تقریبات
اس سال برسی کے موقع پر اس چھوٹے کمرے میں اکھنڈ پاٹھ کا اہتمام کیا گیا جہاں گرو ارجن صاحب کو قتل کیا گیا تھا۔ اسی دوران اصل مزار کے گرد حال ہی میں تعمیر کیے گئے بڑے ہال میں کیرتن (اجتماعی مذہبی گائیکی) جاری رہی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
باہر پاکستانی اور انڈین سکھ زائرین کے ہجوم ایک دوسرے سے مل جل رہے تھے اور کچی لسی نوش کر رہے تھے۔ اگرچہ ماحول کسی تہوار جیسا محسوس ہوتا تھا، لیکن درحقیقت یہ ایک سنجیدہ اجتماع تھا جس کا مقصد گرو ارجن صاحب کو یاد کرنا تھا، نہ کہ جشن منانا۔
تاثرات
مصنف کے مطابق پانچویں گرو کی موت نے بعد ازاں سکھ مذہب میں عسکری پہلو کو جنم دیا۔ گرو ارجن صاحب کے بعد ان کے صاحبزادے گرو ہرگوبند نے دو تلواریں پہننا شروع کیں؛ ایک ’میری‘ (دنیاوی اور سیاسی اختیار) اور دوسری ’پیری‘ (روحانی اختیار) کی علامت تھی۔ انہوں نے ایک فوج تشکیل دی، قلعے تعمیر کروائے اور 1606 میں امرتسر میں ہرمندر صاحب کے سامنے اکال تخت قائم کیا، ساتھ ہی خود کو ’سچا پاتشاہ‘ قرار دیا۔
مصنف لکھتے ہیں کہ گرو ارجن صاحب بنیادی طور پر ایک روحانی اور مذہبی رہنما تھے، لیکن ساتھ ہی وہ ایک سماجی اور بعد میں سیاسی کردار بھی بن گئے۔
ان کے مطابق سکھ گروؤں اور مغل اقتدار کے درمیان تنازعات کا تعلق انصاف، مساوات اور روحانی آزادی سے تھا۔ پنجاب کے مقامی ہندو، مسلمان اور سکھ عوام باہمی روابط میں رہتے تھے اور ان کے تعلقات ہمیشہ شاہی پالیسیوں کے تابع نہیں تھے۔
سکھ برادری کے نزدیک گرو ارجن صاحب کی موت ان کی تاریخ میں ظلم و ستم کے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم مصنف اس خیال سے اختلاف کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اسلام یا ہندومت کی جانب سے سکھ مذہب پر حملہ تھا۔ ان کے مطابق جہانگیر ایک مسلمان حکمران تھا مگر اسلام کا نمائندہ نہیں تھا، اسی طرح چندو شاہ ہندو تھا مگر ہندومت کا نمائندہ نہیں تھا۔
مصنف کے مطابق اصل ذمہ داری جہانگیر، پرتھی چند اور چندو شاہ پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے اس سانحے میں کردار ادا کیا۔
ان کے خیال میں گرو ارجن صاحب کی موت کے بعد سکھ مذہب کا عسکری رخ اختیار کرنا دفاعی اور حفاظتی نوعیت کا تھا، نہ کہ فتوحات یا سلطنت سازی کے لیے۔ سکھ گروؤں کی جدوجہد اسلام یا کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف تھی۔
مصنف اس عام تصور کو بھی گمراہ کن قرار دیتے ہیں کہ گرو نانک مکمل طور پر امن پسند تھے اور بعد میں سکھ روایت عسکریت کی طرف مڑ گئی۔ ان کے مطابق گرو نانک سے لے کر گرو گوبند سنگھ تک آزادیِ ضمیر، انسانی مساوات اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کے اصول یکساں رہے، صرف حالات کے مطابق طریقہ کار تبدیل ہوا۔
مصنف مزید لکھتے ہیں کہ سکھ گروؤں کے بعض مغل حکمرانوں سے سیاسی اختلافات ضرور تھے، لیکن وہ اسلام کے مخالف نہیں تھے۔ سری گرو گرنتھ صاحب میں اسلام کا احترام متعدد مقامات پر ملتا ہے۔ لاہور کے معروف صوفی بزرگ حضرت میاں میر پانچویں اور چھٹے سکھ گرو کے قریبی دوست تھے اور انہوں نے گرو ارجن صاحب کے حق میں جہانگیر سے سفارش بھی کی تھی۔
آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عظیم الشان سمادھی اور گرو ارجن صاحب کے نسبتاً چھوٹے مزار کا موازنہ کیا۔ ان کے مطابق مہاراجہ کی سمادھی کو بلند چبوترے پر تعمیر کیا گیا، جس کے باعث وہ گرو ارجن صاحب کے مزار پر حاوی نظر آتی ہے۔ مصنف اسے رنجیت سنگھ کی بعد کی نسلوں کی ترجیحات اور سیاسی بصیرت پر ایک تبصرہ قرار دیتے ہیں۔
برسی کی تقریب کے دوران جب مصنف سری گرو گرنتھ صاحب کی تلاوت کر رہے تھے تو صفحہ 1071 پر انہیں یہ اشعار ملے:
’سلطان اور خان ایک لمحے میں کیڑے مکوڑوں کی مانند ہو جاتے ہیں،
لیکن پروردگار غریبوں کی عزت افزائی کرتا ہے۔
وہ غرور کو مٹا دیتا ہے اور سب کو یکساں سمجھتا ہے،
اس کی قدر و منزلت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
یہ تحریر اس سے قبل میڈیم پر شائع ہوچکی ہے۔