سکھوں کے مذہبی تہوار بیساکھی میلے کی تقریبات اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر واقع حسن ابدال میں گردوارہ پنجہ صاحب میں جاری ہیں جس میں انڈیا، کینیڈا اور امریکہ سمیت دیگر کئی ممالک سے آئے ہزاروں سکھ یاتری موجود ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پشاور کی جانب بذریعہ گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ سفر کریں تو تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر حسن ابدال میں گوردوارہ پنجہ صاحب موجود ہے۔ سکھوں کے مطابق یہاں ایک پتھر پر باباگورونانک کے پنجے کا نشان ہے جس کی مناسبت سے اسے پنجہ صاحب کہا جاتا ہے۔ یہ گوردوارہ 1823 میں سردار ہری سنگھ نے تعمیر کرایا تھا۔
بیساکھی ایک مذہبی اور ثقافتی تہوار ہے جسے تاریخی طور پنجابی کیلینڈر کے مطابق یکم وساکھ کو خاصے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے سکھ پاکستان آتے ہیں۔
پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کے علاوہ بہت سے دیگر مقدس مقامات ہیں جہاں سکھ یاتری مذہبی رسومات کے لیے آتے ہیں۔
سکھوں کے نزدیک ان کے لیے سب سے زیادہ مقدس پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں موجود گوردوارہ جنم استھان ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی باباگورنانک کی پیدائش ہوئی۔
بیساکھی میں شرکت کے لیے انڈیا سے آنے والے 80 سالہ مکھن سنگھ کے مطابق یہ موقع ان کی زندگی کا یادگار ترین لمحہ بن گیا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گرو نانک کے درشن ان کی دیرینہ خواہش تھی، جو آج پوری ہو گئی۔ اتفاق سے آج ہی ان کی سالگرہ بھی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مکھن سنگھ کہتے ہیں کہ کمزور صحت اور چلنے میں دشواری کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدس مقام پر حاضری دینے کے لیے ہر حال میں آنا چاہتے تھے۔
’میں بھارت سے دلی سے آیا ہوں اب میری عمر اس وقت اج کے دن میں 80 سال پوری ہو رہی ہے اور میری یہ خواہش تھی کہ میں پرماتما کا نام لینے سے پہلے اوپر جانے سے پہلے میں اس گرو کے درشن کر جاؤں۔‘
سندھ کے شہر سکھر سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ جتندر بھی ایک منفرد دعا لے کر میلے میں شریک ہوئے، جتندر بھی بیساکھی میلے میں اپنی ایک بڑی خواہش لے کر گردوارہ سری پنجہ صاحب پہنچے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کے لیے دعا مانگنے آئے ہیں ’میرا قد ساڑھے تین فٹ اور عمر 32 سال ہے۔ شادی نہیں ہوئی، شادی بابا گرو نانک کروائے گا جو نصیب ہو گا۔ ہاں، لمبے قد کی لڑکی سے شادی کر لوں گا۔‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے ہندو خاندان، راجندر لال اور ان کی اہلیہ سنیتا راجندر گذشتہ 25 برس سے باقاعدگی سے بیساکھی میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سنیتا راجندر کے مطابق گردوارے کے تالاب میں مچھلیوں کو دانہ ڈالنا ان کے لیے سب سے خوشگوار لمحہ ہوتا ہے۔
کینیڈا سے آئے بلجیت سنگھ پنگو اپنی اہلیہ کے ہمراہ میلے میں شریک ہوئے اور پاکستان میں ملنے والی مہمان نوازی، محبت اور عزت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔
مقامی افراد اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
بیساکھی پنجاب کا روایتی فصل کٹائی کا تہوار ہے، مگر سکھ اسے کیوں مذہبی عقیدت سے مناتے ہیں؟ اس کے پیچھے سینکڑوں سال پرانی تاریخ ہے۔
1699 میں سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ نے سکھ مذہب کے اصول باضابطہ طور پر مقرر کیے تھے اور اسے خالصہ کا نام دیا تھا۔ اس دوران سکھ مذہب کے پانچ ککے (کرپان، کڑا، کیس، کچھا اور کنگھی) مقرر ہوئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے نزدیک بیساکھی کا میلہ نہ صرف ایک اہم مذہبی تہوار ہے، بلکہ انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کا عملی پیغام بھی بن کر ابھرا ہے۔