پاکستان میں سیاسی تلخیاں

پاکستان کو مزید تلخیوں کی ضرورت نہیں۔ اسے اعتماد کی ضرورت ہے۔

24 مارچ، 2025 کو کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کے مطالبے کے لیے احتجاج کے دوران پولیس اہلکار بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو حراست میں لے کر جا رہے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)

کچھ کہانیاں محض کسی ایک فرد کی نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک پوری قوم کے اس درد کی عکاس ہوتی ہیں جو شناخت، وقار اور انصاف کی تلاش میں ہو۔

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کے ان خاندانوں کی ایک آواز بن کر ابھریں جن کا کہنا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں، عدم تحفظ اور دہائیوں کے خوف کا شکار رہے ہیں۔

ان کے حامیوں کی نظر میں وہ کسی بغاوت کی نہیں بلکہ اپنی بات منوانے اور سنے جانے کی ایک فریاد ہیں۔

عدالتوں، الزامات اور قید کی شہ سرخیوں سے بہت پہلے وہ اسلام آباد میں غم زدہ ماؤں، بہنوں اور بچوں کے ساتھ دھرنا دیے بیٹھی تھیں۔

ان کے مطالبات بظاہر سادہ مگر حقیقت میں گہرے تھے۔ وہ ہتھیار لے کر نہیں بلکہ تصویریں اور یادیں لے کر آئے تھے۔

ان کے بہت سے حامیوں کے مطابق اسلام آباد کے دھرنے کا سب سے تکلیف دہ پہلو محض یہ جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ احساس تھا کہ ان کے غم کو غلط سمجھا گیا اور بعض اوقات سرِعام اس کا مذاق اڑایا گیا۔

گمشدہ بیٹوں کی تصویریں اٹھائے مائیں، باپ کے بغیر پروان چڑھتے بچے اور جواب مانگتے خاندان ملکی منظرنامے پر حکومت سے اپنے آنسوؤں اور محرومیوں کی داستانیں لے کر آئےتھے۔ 

تاہم، بہت سے حامیوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے ٹیلی ویژن میڈیا کے ایک حصے نے اس احتجاج کے ساتھ عجیب نفرت انگیز سلوک کیا۔

خاندانوں کے جذبات اور مطالبات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے کچھ ٹیلی ویژن میزبان اور تبصرہ نگار ان کے مقاصد پر سوال اٹھانے اور پس پردہ ایجنڈوں کو تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر آئے۔

تلخ اور شکوک و شبہات سے بھرپور انٹرویوز کو حامیوں نے ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا جس کا مقصد اس تحریک کو انصاف کی تڑپ کی بجائے کسی سازش یا خطرناک رنگ میں پیش کرنا تھا۔

ان غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال بار بار گونجتا رہا کیا اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات مانگنا بدنیتی ہے؟ کیا انصاف کا مطالبہ کرنا دشمنی ہے؟ 

تحریک کے ناقدین کا استدلال تھا کہ میڈیا کی جانچ پڑتال ضروری تھی اور قومی سلامتی و سیاسی اثر و رسوخ کے خدشات کا جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔

اس کے برعکس حامیوں کا ماننا تھا کہ اس قسم کی جانچ پڑتال اکثر ہمدردی سے عاری ہوتی تھی اور وہ احتجاج کے پیچھے چھپے انسانی دکھ کو سمجھنے میں ناکام رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی تحریک سے اختلاف کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ان لوگوں کے درد کو جھٹلا دیا جائے جنہوں نے اپنے باپ، بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کی خبر پانے کے لیے برسوں انتظار کیا ہے۔

اسی دوران حکومت کا کوئی عہدے دار ان کی فریاد اور تحفظات سننے کے لیے نہیں آیا۔ ان کے لیے صرف ایک گہری اور سرد خاموشی تھی۔

شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ سوالات اٹھائے گی بلکہ یہ ہے کہ کئی خاندانوں نے محسوس کیا کہ ان کی فریاد کو ہمدردی کی بجائے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

اپنی عوام کے دکھ درد کو سننے سے کوئی بھی قوم کمزور نہیں ہوتی۔ ایک ریاست مطالبات سے اختلاف کر سکتی ہے، بیانیوں کو چیلنج کر سکتی ہے یا اپنے اداروں کا دفاع کر سکتی ہے، لیکن جب آنسوؤں کو خطرہ اور غم کو بدنیتی سمجھ لیا جائے تو وہ عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے۔

بہت سے لوگ اب بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اس مرحلے پر ان شکایات کا ازالہ کیوں نہیں کیا گیا؟

بداعتمادی کی جگہ مذاکرات نے کیوں نہیں لی؟ خوف کو تصادم کی شکل اختیار کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟

حکومتوں کو اکثر پیچیدہ امن و امان کے چیلنجوں اور متضاد ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے بلوچستان میں شورش، دہشت گردی اور عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔

ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور آئینی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے، لیکن سلامتی اور ہمدردی ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔

ایک ریاست صرف طاقت سے نہیں، بلکہ سننے اور سمجھنے سے مضبوط ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب حقیقی شکایات کا جواب نہیں دیا جاتا، تو بیگانگی کا احساس بڑھتا ہے۔

جب شہریوں کو لگتا ہے کہ ان کے دکھوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو بداعتمادی کی خلیج وسیع ہو جاتی ہے۔

جو گفتگو پل بنا سکتی تھی، وہ تلخ بحثوں میں بدل جاتی ہے اور بحثیں بحران کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہ المیہ صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔

آج، جب قانونی کارروائیاں اور قید و بند ماہ رنگ بلوچ کی کہانی کا حصہ بن چکے ہیں، آرا شدید منقسم ہیں۔

ان کے ناقدین ان پر قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ انہیں تلخ سوالات اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے۔

بالآخر، یہ ایسے معاملات ہیں جن کا فیصلہ قانون اور تاریخ کو کرنا ہے، لیکن سیاسی اختلافات سے قطع نظر، ایک سچائی اپنی جگہ قائم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاشرے تبھی پروان چڑھتے ہیں جب اختلاف رائے کا جواب دوریوں کی بجائے مکالمے سے دیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تو پھر اس نے اپنے گھر سے شروعات کیوں نہیں کی؟

یہی سوال سابق وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے بھی اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی مسلسل قید اور سیاسی جدوجہد نے ملک بھر میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

حامی انہیں جمہوری حقوق اور احتساب کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانونی عمل کو اپنا راستہ خود بنانا چاہیے۔

آپ کا موقف کچھ بھی ہو، طویل سیاسی تصادم شاذ و نادر ہی کسی ایسی قوم کو فائدہ پہنچاتا ہے جو پہلے ہی معاشی اور سماجی چیلنجوں کے بوجھ تلے دبی ہو۔

پاکستان کو مزید تلخیوں کی ضرورت نہیں۔ اسے اعتماد کی ضرورت ہے۔ اسے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو بھروسہ قائم کر سکیں اور ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو یہ محسوس کریں کہ ان کی آواز کی اہمیت ہے۔

ملک تب مضبوط ہوتا ہے جب شکایات کے زخم بننے سے پہلے ان کا مداوا کیا جائے اور جب اختلاف رائے دشمنی میں نہ بدلے۔

شاید کسی قوم کی سب سے بڑی طاقت یہ ثابت کرنے میں نہیں کہ کون صحیح ہے بلکہ یہ یقینی بنانے میں ہے کہ کوئی بھی شہری خود کو اکیلا اور اَن سنا محسوس نہ کرے۔

تاریخ جیلوں اور احتجاجوں کو یاد رکھتی ہے لیکن وہ ان لمحات کو اور زیادہ یاد رکھتی ہے جب قوموں نے بیگانگی پر تفہیم کو اور خاموشی پر مفاہمت کو ترجیح دی خصوصا ایسے وقت پر جب پاکستان عالمی امن کے لیے تو بلند قامت نظر آیا، مگر اپنے گھر کے لیے نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا صروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ