ایران میں ایک سینیر اہلکار نے اتوار کو انکشاف کیا کہ ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں تقریباً 500 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردوں اور مسلح فسادیوں‘ نے معصوم ایرانیوں کو قتل کیا۔
اہلکار کے مطابق سب سے شدید جھڑپیں اور سب سے زیادہ اموات ایران کے شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں جو پہلے ہی بدامنی اور تشدد کا شکار رہا ہے جہاں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں۔
انہوں نے اسرائیل اور بیرون ملک مسلح گروہ پر مظاہرین کی مدد اور پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’اموات کی حتمی تعداد میں اب نمایاں اضافہ متوقع نہیں۔‘
ایرانی حکام اکثر احتجاج کو ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس بار بھی اہلکاروں نے زور دیا کہ ’ایران کے دشمن‘ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ اسرائیل رواں سال جون میں ایران پر حملے بھی کر چکا ہے۔
ادھر امریکی میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق حالیہ واقعات میں اموات کی مصدقہ تعداد 3,308 ہے جب کہ 4,382 کیسز کا اب بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گروپ نے 24 ہزار سے زیادہ گرفتاریوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ٹرمپ بدامنی کے ذمہ دار: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا: ’امریکی صدر نے ایرانی قوم کو نقصان پہنچایا، اموات کی ذمہ داری انہی پر ہے۔‘
مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے اور رفتہ رفتہ ایران میں مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔
ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کی دھمکیاں دیں مگر ایک موقع پر تہران کی جانب سے مبینہ پھانسیوں کا منصوبہ ترک کرنے پر ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔‘