یورپی یونین سے تجارت کے فروغ کی کوششیں جاری رکھیں گے: پاکستان

اسلام آباد میں یورپی یونین، پاکستان بزنس فارم کا آغاز ہو گیا جس میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف 28 اپریل، 2026 کو اسلام آباد میں یورپی یونین کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے (وزیر اعظم ہاؤس)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے سینیئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد سے منگل کو ملاقات میں کہا کہ ان کی حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔

دو روزہ اعلیٰ سطحی یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کا منگل کو اسلام آباد میں آغاز ہوا جس میں پاکستان اور یورپی یونین تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس سٹبس کی قیادت میں ایک وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ’حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔‘

شہباز شریف نے کہا یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے۔

یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔

بیان میں کہا گیا کہ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اپنے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا ’یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں B2B تعلقات کو مزید فروغ دینے کے قوی امکانات ہیں۔‘

یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم بدھ کو بھی جاری رہے گا۔ یورپی حکام کے مطابق، پاکستان میں 300 سے زائد یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس (GSP+) پروگرام کے تحت پاکستان کو متعدد برآمدات پر کم یا صفر ٹیرف کی سہولت حاصل ہے، جس کے بدلے میں اسے انسانی حقوق، مزدوروں کے معیار اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ یہ اسکیم دو طرفہ تجارت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت