پاکستان کے مرکزی بینک نے پیر کو شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد کر دیا ہے۔
تقریباً تین سال بعد شرح سود میں یہ پہلا اضافہ ہے، جو ایران-امریکہ جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس فیصلے نے بیشتر ماہرین کو حیران کر دیا کیونکہ روئٹرز کے سروے میں شامل 10 میں سے چھ تجزیہ کاروں نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔
سٹیٹ بینک جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکا ہے جب شرح سود ریکارڈ 22 فیصد کی سطح پر تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے ساتھ پاکستان میں صارفین کی قیمتوں پر مبنی مہنگائی مارچ میں سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جو مرکزی بینک کے پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اپریل میں یہ شرح 10 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
ایران-امریکہ جنگ میں عارضی جنگ بندی کے باوجود تاحال کوئی دیرپا امن معاہدہ نہیں ہو سکا، جس کے باعث تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
پاکستان اس وقت سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ اس سے پہلے قبل از وقت پالیسی ریٹ میں نرمی سے گریز کرنے کی ہدایت کر چکا ہے اور مرکزی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ حقیقی شرح سود کو مثبت سطح پر برقرار رکھے۔