عالمی مالیاتی فنڈ نے سٹیٹ بینک پر زور دیا تھا کہ وہ حقیقی شرح سود کو مثبت سطح پر برقرار رکھے۔
جون کے بعد سے شرح سود میں یہ مسلسل تیسری کمی ہے جس کے بارے میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں افراط زر کی شرح میں کمی اور ترقی کی رفتار بڑھنے پر لیا گیا۔