روٹ انگلش ٹیم کی میدان سے باہر ’احمقانہ غلطیوں‘ پر برہم

روٹ نے کہا وہ ڈسپلن لانے کے لیے کرفیو نافذ نہیں کریں گے کیونکہ ٹیم کے کلچر کو تبدیل کرنے کا یہ مؤثر طریقہ نہیں۔

روٹ 16 جولائی، 2026 کو ویلز کے شہر کارڈف میں انڈیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ سے قبل نظر آ رہے ہیں (اے ایف پ)

جو روٹ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ ان کی انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے فاتحانہ واپسی میدان سے باہر ایک اور پیش آنے والے واقعے کی نذر ہو گئی، جس کے باعث برائیڈن کارس کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں فاسٹ بولر کارس کو ہفتے کے روز ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے ہتھکڑیاں لگا کر لے جاتے ہوئے دکھائے جانے کے بعد کرکٹ ریگولیٹر کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ انگلینڈ کے لیے گذشتہ سال کے آخر میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے تباہ کن دوروں کے بعد سے شراب نوشی سے جڑے تنازعات کی ایک طویل سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

سفید گیند کی ٹیم کے کپتان ہیری بروک ویلنگٹن میں ایک نائٹ کلب کے سکیورٹی گارڈ سے الجھ پڑے تھے جبکہ آسٹریلیا کے خلاف 1-4 سے ایشز سیریز میں شکست کے دوران اوپنر بین ڈکٹ کی ایک رات کی تفریح کے دوران بظاہر نشے میں ہونے کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں

جون میں سابق کپتان بین سٹوکس اور گس اٹکنسن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں ایک واقعے کے بعد تحریری وارننگ دی گئی اور نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر کردیا گیا تھا۔

یہ واقعہ کرفیو کی خلاف ورزی کے بعد پیش آیا تھا۔ چند روز بعد تیسرے ٹیسٹ کے دوران سٹوکس نے بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، جس کے بعد روٹ کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سنبھالنے کا موقع ملا۔

روٹ کی قیادت میں واپسی کے بعد پہلے ہی میچ میں انگلینڈ نے گذشتہ ہفتے پاکستان کو تین دن کے اندر ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی تھی۔

روٹ نے منگل کو پریس کانفرنس میں کہا ’اگر میں بالکل صاف بات کروں تو میں واقعی بہت ناراض ہوں۔ میں اس بات پر بہت مایوس ہوں کہ گذشتہ ہفتے کی کارکردگی کے بعد ہم یہاں بیٹھے ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کا اس کارکردگی سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔‘

انہوں نے کہا ’مسئلہ صرف یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم مسلسل میدان سے باہر احمقانہ غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور اس سے میدان میں ہماری کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوری میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کے بعد کھلاڑیوں کے باہر جانے پر کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

تاہم روٹ نے کہا وہ کرفیو نافذ نہیں کریں گے کیونکہ ان کے خیال میں انگلینڈ کے سکواڈ کے کلچر کو تبدیل کرنے کا یہ مؤثر طریقہ نہیں۔

35 سالہ روٹ نے مزید کہا ’میں اب بھی نہیں سمجھتا کہ یہ صحیح راستہ ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اس سے کچھ بڑا تخلیق کریں۔ مقصد ایسی چیز بنانا ہے جو طویل عرصے تک قائم رہے اور جس پر ہمیں فخر ہو۔‘

انہوں نے کہا ’واضح طور پر ہم خود کو اس انداز میں پیش نہیں کر رہے جس طرح ہم چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ہمارے پاس ایسا کلچر تشکیل دینے کا موقع ہے جو بہت مضبوط ہو، جس پر ہمیں فخر ہو، جو کھلاڑیوں کی اپنی کوششوں سے تشکیل پائے۔ یقیناً یہ راتوں رات نہیں ہو گا۔‘

’ہم پہلے ہی ٹیم کی حیثیت سے اس بارے میں بات کرچکے ہیں کہ اس گروپ کے کھلاڑیوں سے کیا توقعات ہیں، انگلینڈ کے لیے کھیلنے کا کیا مطلب ہے اور انگلینڈ کے لیے کھیلنے کے لیے کیا کچھ درکار ہے۔‘

’ہم کچھ ایسا بنانا چاہتے ہیں جس پر ہمیں فخر ہو اور جو لوگ ہمیں فالو کرتے ہیں وہ بھی ہم پر فخر کرسکیں۔‘

کارس کو پہلے ٹیسٹ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تھا اور اب انہیں دوسرے ٹیسٹ کے سکواڈ سے بھی نکال دیا گیا ہے، جو جمعرات کو لارڈز میں شروع ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان