پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عالمی معیار کے ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کی باتیں ہم کئی ماہ سے تواتر کے ساتھ سن رہے ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق شہر کا انتظامی ادارہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) بھی وقتاً فوقتاً اس منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کرنے کی خواہش ظاہر کرتا رہتا ہے، لیکن اس بڑے منصوبے کے بارے میں شفافیت سے متعلق کافی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
نہ حکومت، نہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور نہ ہی سی ڈی اے باضابطہ طور پر اس کی تفصیلات شیئر نہیں کر رہا ہے کہ یہ کہاں بنے گا، کیسا ہوگا، تعمیر کا تخمینہ کتنا ہے اور کیا اس کا ماحولیاتی جائزہ ہوا ہے یا نہیں؟
بس لوگوں کو اخباری بیانات کے ذریعے شاید اسلام آباد کے مجوزہ کرکٹ سٹیڈیم کے بارے میں درج ذیل نکات ہی معلوم ہیں۔
محسن نقوی نے بطور وفاقی وزیر داخلہ اور پی سی بی چیئرمین اسلام آباد میں نئے کرکٹ سٹیڈیم کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔
اس کھیل کے میدان کی لوکیشن اب بھی ایک بڑا معمہ ہے۔ البتہ کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیڈیم کے لیے سیکٹر D-12 کے اردگرد کسی مجوزہ مقام کو حتمی شکل دی گئی ہے، جو شاہ اللہ دتہ اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔
سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے جاری سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر پانچ جنوری، 2026 کے ٹینڈر کے مطابق یہ ڈی 12 سیکٹر کے قریب ہوگا لیکن کسی مقام کا کوئی ذکر نہیں۔
لیکن اس کے درست مقام کے باضابطہ اعلان کی غیرموجودگی میں ڈی 12 اور ادرگرد کے علاقوں کے رہائیشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کی لوکیشن سے علاقے میں آمدو رفت میں غیرمعمولی اضافے اور رش کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب یہ علاقہ کافی سرسبز اور مارگلہ کے پہاڑی علاقے کے قریب ہے، لہٰذا کیا اس کے ماحولیات پر اثرات کا کوئی تجزیہ ہوا یا نہیں؟ اس بارے میں بھی حکام مکمل خاموش ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اخباری رپورٹس میں کہا گیا کہ سٹیڈیم کو دبئی کے جدید کرکٹ سٹیڈیم سے متاثر ہو کر ڈیزائن کرنے کی تجویز ہے اور اس کے ساتھ جدید سکیورٹی، پارکنگ اور رسائی کی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔
ایک اجلاس میں سی ڈی اے کو سٹیڈیم کا ڈیزائن جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔
وہ معلومات جو تصدیق شدہ نہیں
35 ہزار سے زائد نشستیں،
25 ایکڑ رقبے،
فائیو سٹار ہوٹل،
اور 12 ماہ میں تکمیل
انڈپینڈنٹ اردو کے سی ڈی اے حکام سے بارہا رابطوں کے باوجود کوئی حتمی معلومات شیئر نہیں کی گئی۔
مصنوعی ذہانت کو بھی اس وقت کوئی باضابطہ سی ڈی اے، پی سی بی یا وفاقی حکومت کی دستاویز نہیں ملی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق سی ڈی اے کے رکن ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کی زیر صدارت ہونے والے گذشتہ دنوں کے ایک اجلاس میں کنسلٹنٹ، ٹھیکے دار اور ادارے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں منصوبے کے مختلف تکنیکی پہلوؤں، بل آف کوانٹیٹیز (بی او کیو)، کام کے دائرہ کار اور لاگت کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔
سی ڈی اے پہلے ہی مالی بولیاں کھول چکا ہے جس میں حبیب کنسٹرکشن سروسز اور زیڈ کے بی ای اے کے مشترکہ منصوبے نے تقریباً آٹھ ارب 90 کروڑ روپے کی کم ترین بولی دی ہے۔
اس رقم میں سٹیڈیم کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ تقریباً تین کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔
اجلاس میں کنسلٹنٹ کو ہدایت کی گئی کہ ٹھیکے دار کی جانب سے پیش کیے گئے تعمیراتی اخراجات (ریٹس) کا فوری جائزہ لے کر ان کی معقولیت کی تصدیق کرے تاکہ ورک آرڈر جاری کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
کرکٹ کے ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اسلام آباد پہلی مرتبہ اپنے مستقل بین الاقوامی کرکٹ وینیو کا حامل ہو جائے گا۔
اس سے نہ صرف پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کے مزید مواقع پیدا ہوں گے بلکہ راول پنڈی کرکٹ سٹیڈیم پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے، جو حالیہ برسوں میں قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی کا اہم مرکز رہا ہے۔