لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح شکست کھائی اس نے ’دی ٹیلی گراف‘ میں شائع ہونے والے شلڈ بیری کے تازہ ترین تنقیدی مضمون کو ثابت کیا ہے۔
ٹیلی گراف نے تو کہیں کہیں اسے انگلینڈ کے قدرے مختلف ماحول میں پیش آنے والی مشکلات لکھ دیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کی اہلیت اس سے بھی کم تھی۔
جتنا ٹیسٹ میچ تیسرے دن تک بڑھ گیا، شاید بارش کے باعث جو وقت برباد ہوا، اس نے انگلینڈ یاترا کرنے والے صحافیوں کو مزید ایک دن لیڈز گراؤنڈ کی میزبانی کا لطف اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا، ورنہ کہانی کا اختتام تو دوسرے دن ہی ہو جاتا اور اگلے تین دن ہوٹلوں کو قیام کے پیسے دینے پڑتے، جو اب کم از کم دو دن پر سمٹ گیا۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے موجودہ ٹیم کو گذشتہ 50 سال میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی بدترین ٹیم قرار دیا ہے، جو کھیل کے ہر شعبے میں ناکام رہی۔
جو کھلاڑی اس وقت ٹیم کا حصہ ہیں وہ اگر بنگلہ دیش یا سری لنکا میں ہوتے تو کبھی بھی قومی ٹیم تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ٹیم کی زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ کسی ایک بلے باز کی تکنیک صحیح نہیں ہے۔
اوپنر امام الحق جو 8 سال سے ٹیم کا حصہ ہیں، اکثر ناکام ہو کر چند دنوں کے لیے ٹیم سے نکال دیے جاتے ہیں اور ایک دو میچوں کے بعد پھر وہ ٹیم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لیڈز ٹیسٹ میں باؤنسرز کے خلاف ان کی ناکامی نے شکست کی راہ ہموار کی۔
بابر اعظم نے لیڈز کی پچ پر گھاس اور غیر ہموار سطح کو دیکھتے ہوئے دانش مندانہ فیصلہ کیا کہ وہ نہیں کھیلے۔
ان کے ہاتھ کی چوٹ اس قدر پراسرار تھی کہ ایم آر آئی نہیں کی گئی۔
پاکستان کا اصل مسئلہ بدترین بیٹنگ اور بولنگ ہے۔ بیٹنگ میں اکثریت ان کی ہے، جن کی بنیادی تکنیک خراب ہے۔
سلمان آغا سوئنگ گیندوں پر جس طرح مسلسل آؤٹ ہو رہے ہیں، اس کی وجہ ان کی غلط حمکت عملی ہے اور ان کے مشیر وہ ہیں جو خود ایسی گیندوں سے پریشان رہتے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعود شکیل جو عرصے سے فارم میں نہیں ہیں وہ ایک بار پھر ٹیم کی تباہی کے معاون رہے۔ سوائے عبداللہ شفیق کے کوئی بھی بلے باز پراعتماد نظر آیا اور نہ اس کرکٹ کے معیار کا۔
بیٹنگ تو پاکستان کی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، لیکن بولنگ بھی کچھ کم نہیں۔
لیڈز کی جس پچ پر انگلیند کے بولرز 140 سے زائد کی رفتار پر بولنگ کررہے تھے وہاں پاکستان کے محمد عباس اور محمد علی 120 پر بمشکل پہنچ رہے تھے۔ وہ پچ پر پڑنے والے کریکس کو استعمال کرنے میں ناکام رہے حالانکہ ان ہی کریکس پر انگلش بولرز نے شاندار بولنگ کی۔
میچ کے واحد سپنر علی عثمان کو پچ سے مدد ملی تو وہ پانچ وکٹیں لے گئے لیکن فاسٹ بولرز ناکام رہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ٹیم کے پاس کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں تھی۔
ٹیسٹ کرکٹ بہت زیادہ محنت اور لگن کی متقاضی ہوتی ہے، جو اب پاکستان کھلاڑیوں میں عنقا ہے۔
نااہل کوچز
یہی حال کوچنگ کا بھی ہے۔ قومی ٹیم اس وقت ایسے کوچز کے ہاتھ میں ہے جن کے پاس کوئی پلاننگ ہے اور نہ حکمت عملی۔ ہیڈ کوچ سے جب سوال کیا گیا کہ ٹیسٹ کے لیے کیا حکمت عملی ہے تو جواب میں کسی تیاری کے بارے میں بتانے کے موصوف انگلینڈ میں مشکل کنڈیشنز کا ذکر کرنے لگے، حالانکہ یہی وہ ملک ہے جہاں پاکستانی بلے بازوں ظہیر عباس، جاوید میاں داد اور یونس خان نے تاریخ ساز اننگز دیں۔
کوچز بجائے اس کے کہ کوئی پلاننگ کریں، اپنی نوکری بچانے کے چکر میں ہیں۔
پاکستان ٹیم کی کِٹ پر طنز
ٹیم کی کٹ پر بھی انگلش میڈیا طنز کر رہا ہے کہ قومی ٹیم لباس کے معاملے میں بھی غیر ذمہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔
بڑے بڑے سوئٹر اور تنگ قمیصوں نے تماشائیوں تک کو ہنسنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایک گروپ تیسرے دن بہت ڈھیلی قمیصیں پہن کر سٹیڈیم میں داخل ہوا جو پاکستان ٹیم پر علامتی طنز تھا۔ دن بھر انگلش تماشائی پاکستان ٹیم کے کپڑوں پر دلچسپ جملے کستے رہے۔
سلمان علی آغا اور سعود شکیل ان جملوں کے سب سے زیادہ شکار ہوئے۔
پاکستان ٹیم کو لیڈز ٹیسٹ میں جس طرح یکطرفہ شکست ہوئی ہے اس سے اب سیریز کا زاویہ متعین ہوگیا ہے اور واضح ہوگیا ہے کہ ٹیم کہاں کھڑی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ جیتنے کے بعد بلند وبانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے لیکن کیا اس شکست سے کوئی سبق حاصل کیا ہے، تو یقینی طور پر نہیں۔
ٹیلنٹ تو پہلے ہی ناپید ہے اب لڑنے کی حس بھی ختم ہوچکی ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ٹیلی گراف کے اس توہین آمیز مضمون پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔