یورپی کلونیل ازم نے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی نہ صرف دولت اور پیداواری ذرائع کو لوٹا بلکہ ان کی قدیم تاریخ کی نادر اشیا کو بھی لوٹ کر لے گئے اور اپنے عجائب گھروں میں ان کی نمائش کی۔
اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی ڈاکو ڈاکا زنی کے بعد اپنے جرم پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس پر فخر کرے۔
یورپی ملکوں نے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر اپنے قبضے کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا کہ وہ غیر مہذب اقوام کو تہذیب سکھانے آئے ہیں، لیکن جب انہوں نے ان قدیم اقوام کی تہذیبوں کی اشیا کو لوٹا تو انہیں یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ قدیم تہذیبیں ماضی میں زیادہ ترقی یافتہ تھیں۔ جس کا اندازہ ان کی استعمال شدہ اشیا سے ہوتا تھا۔
اپنی اس لوٹ مار کو انہوں نے یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ کیونکہ وہ ان قوموں کو مہذب بنا رہے ہیں لہذا اس کے معاوضے کے طور پر ان کے نوادرات کو لے جا رہے ہیں تاکہ انہیں عجائب گھروں کی زینت بنائیں۔
میسوپوٹامیا کے خاندان اسیریا کے بادشاہ عشور بنی پال کی لائبریری میں تین ہزار مٹی کی تختیوں پر لکھی کتابیں تھیں۔ ان تختیوں کی بڑی تعداد اب برٹش میوزیم میں ہے۔ جہاں خط مسیحی کے رسم الخط کو ماہرین نے پڑھ کر طوفان نوح کی تفصیلات دریافت کیں۔
دوسری تہذیب مصر کی تھی جس کی دریافت شدہ اشیا سے یورپ کے عجائب گھر بھرے ہوئے ہیں۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب نپولین نے 1798 میں تہذیبی ماہرین کے ہمراہ مصر پر حملہ کیا۔ انہوں نے مصر کے نوادرات کو تلاش کر کے اکٹھا کیا۔ نپولین کا یہ مشن اس لیے ناکام ہوا کہ بحریہ کے انگلش کیپٹن نیلسن نے فرانس کے بحری بیڑے کو جو سکندریہ کی بندرگاہ پر تھا، تباہ کر دیا۔
نیپولین خود تو فرار ہو گیا اور مصر پر انگریزوں نے قبضہ کر کے ان نوادرات کو ہتھیا لیا جو فرانسیسوں نے جمع کیے تھے، لہٰذا یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک وہ جو فرانسیسی لے گئے اور پیرس کے میوزیم Louvre میں بطور نمائش رکھا۔
پیرس کے ایک چوک پر ستون نصب ہے جسے Cleopatra's Needle کہتے ہیں۔ نوادرات کے دوسرے حصے کو برٹش میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ ان میں فرعونوں کی ممیاں، ان کی لاشوں کے تابوت اور ان کی استعمال شدہ اشیا ہیں۔
1859 میں جب انگریزوں نے مصر پر قبضہ کر لیا تو مصری نوادرات کی لوٹ مار میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ وادی کنگ میں جو زیر زمین مقبرے تھے، انہیں دریافت کر کے فرعونوں کے خزانوں کو لوٹا گیا۔ تت خانن کے مقبرے کی دریافت کے بعد اس کا خزانہ ملا، جس پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ مصر کے ان تمام نوادرات سے برٹش میوزیم بھرا پڑا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انگریزوں کی یہ ہی لوٹ مار ہندوستان میں بھی رہی۔ ٹیپو سلطان کی شکست کے بعد انگریز جنرل نے فوراً اس کے خزانے پر قبضہ کیا اور اس کی جمع شدہ تاریخی نودارات کو انگلستان بھیج دیا، جہاں اب وہ وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم میں محفوظ ہیں۔ ان ہی میں وہ مجسمہ بھی شامل ہے جس میں ایک شیر انگریز پر حملہ آور ہے۔
تاریخی اشیا کی یہ لوٹ مار افریقہ کی یورپی کالونیز میں بھی رہی۔ مثلاً جب Benin پر انگریزوں نے 1897 میں حملہ کیا تو اس کے شہر کو جلا دیا۔ اور اس کے جمع شدہ برونز (Bronze) کے مجسمے، برتن اور زیب و زینت کی اشیا ان سب کو انگلستان لے آئے۔
موجودہ دور میں یورپ اور امریکہ کے عجائب گھر ایشیا اور افریقہ کی قدیم اشیا سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہیں یا تو کلونیل حکومت لوٹ مار کے ذریعے لائی یا انہیں ان سمگلروں اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے تاجروں سے خریدا گیا اور انہیں عجائب گھروں میں بطور نمائش رکھا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپی ملکوں کی کالونیاں اپنی تہذیب اور کلچر کی اشیا سے محروم ہو گئیں، جس نے ان کی تاریخی شناخت کو بگاڑ دیا۔ اس پر یورپ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کی قدیم تہذیبوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یورپ کے ماہرین، مورخ اور آثار قدیمہ کے سکالرز ایشیا، افریقہ اور لاطینی ملکوں کی تہذیبوں پر مہارت رکھتے ہیں۔ تاریخی اور آثار قدیمہ کے علم پر ان کی اجارہ داری ہے۔ یہ اجارہ داری اس لیے قائم ہوئی کیونکہ انہوں نے یا تو قدیم تہذیبوں کو تباہ و برباد کیا ہے یا ان کے علمی اور تاریخی خزانوں پر قبضہ کر کے اپنے حالات کے تحت ان کی تشریح کی۔
انہوں نے قدیم ایشیائی اور افریقی اقوام کی ترقی سے انکار کیا تاکہ یورپ کی برتری کو مسلط کر کے ان پر حکومت کی جائے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔