برطانوی میوزیم کو تاریخی نوادرات واپس کرنے کے بڑھتے دباؤ کا سامنا

نیدرلینڈز کی جانب سے سری لنکا سے لوٹے گئے تاریخی نوادرات واپس کرنے کے بعد برطانیہ پر متنازع خزانے کو واپس کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

1845 سے تعلق رکھنے والے لکڑی کا نایاب شاہکار برٹش میوزیم میں 27 ستمبر 2006 کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا (شان کری / اے ایف پی)

نیدرلینڈز کی جانب سے نوآبادیاتی دور میں سری لنکا سے لوٹے گئے چھ تاریخی نوادرات واپس کرنے کے بعد برطانیہ پر ’برٹش میوزیم‘ میں رکھے گئے متنازع خزانے کو واپس کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

نیدرلینڈز نے 17ویں صدی کے اوائل میں سری لنکا پر قبضے کے بعد اسے اپنی نوآبادیات میں شامل کیا تھا جس کے بعد اب ڈچ حکومت نے کینڈی سلطنت (سری لنکا کی آخری آزاد بادشاہت) سے 250 سال قبل لوٹے گئے نوادرات واپس کر دیے۔

سری لنکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی یہاں سے بہت کچھ لوٹا تھا جسے واپس کیا جانا چاہیے۔

نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نوآبادیاتی دور کے خزانے میں شامل سونے، چاندی اور کانسی سے بنائی گئی ’لیوک کینین‘ نامی ایک توپ، ایک شاہی رسمی تلوار اور دو بندوقیں اب سری لنکا کے کولمبو نیشنل میوزیم میں نمائش کے لیے رکھ دی گئی ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’ان اشیا کو غلط طریقے سے نوآبادیاتی دور میں نیدرلینڈ لایا گیا تھا اور انہیں زبردستی یا لوٹ مار کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔‘

ڈچ سفارت خانے نے مزید کہا کہ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہنے والے چھ تاریخی نوادرات پانچ اور چھ دسمبر کو کولمبو نیشنل میوزیم میں دو روزہ تقریب کے دوران سری لنکا کو واپس کر دیے گئے ہیں۔

سری لنکن بدھاساسنا کے مذہبی اور ثقافتی امور کے وزیر ودورا وکرمانائیکے نے کہا کہ سری لنکا نوادرات کی واپسی پر نیدرلینڈ کی حکومت اور شہریوں کا مشکور ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکرمانائیکے نے کہا کہ انہوں نے لوٹے گئے خزانے کو واپس لانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ ساتھ یونان اور برطانیہ کے ساتھ بھی بات چیت شروع کر دی ہے۔

وکرمانائیکے نے کہا: ’مزید نوادرات ملک واپس آنے ہیں۔ نہ صرف نیدرلینڈز سے بلکہ برطانیہ جیسے دوسرے ممالک سے بھی۔ اس لیے ہم نے پہلے ہی ان سئ بات چیت شروع کر دی ہے اور مجھے امید ہے کہ مذاکرات بہت جلد نتیجہ خیز ہوں گے۔‘

ان نوادرات کی واپسی ڈچ حکومت کی جانب سے سری لنکا کی درخواست پر رضامندی ظاہر کرنے کے دو سال بعد عمل میں آئی ہے۔

بین الاقوامی ثقافتی تعاون کی ڈچ سفیر ڈیوی وان ڈی ویرڈ نے کہا: ’یہ اشیا ایک اہم ثقافتی اور تاریخی اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں اور اب یہ سری لنکا واپس آ گئی ہیں جہاں انہیں سری لنکا کے عوام دیکھ سکتے ہیں۔‘

ڈچ سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ان اشیا کو واپس کرنے کا مقصد اہم ہے کیونکہ یہ تاریخی ناانصافیوں کو دور کرنے کے بارے میں ہے۔‘

برطانیہ نے بھی سری لنکا سے کچھ نایاب نوادرات لوٹے تھے جن میں دیوی تارا کا سونے سے بنا ہوا مجسمہ بھی شامل ہے جو اس وقت لندن کے برٹش میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔

حالیہ دہائیوں میں برٹش میوزیم کو قدیم خزانے رکھنے کے حق پر اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کیوں کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برطانوی سلطنت کے نوآبادیاتی دور میں اس کولیکشن میں موجود بے شمار نوادرات کو بنیادی طور پر ’لوٹا‘ گیا تھا۔

اس معاملے نے ایلگین ماربلز کے نام سے مشہور پارتھینن مجسموں کی ملکیت پر برطانیہ اور یونان کے درمیان سفارتی تنازع کو بھی جنم دیا ہے۔

یہ تنازع گذشتہ ماہ ایک دوسرے پر الزامات کے بعد اس وقت مزید بڑھ گیا جب رشی سونک نے غیر متوقع طور پر اپنے یونانی ہم منصب کیریاکوس میتسوتاکس کے ساتھ ملاقات منسوخ کردی کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم سے ان مجسموں کی واپسی کا معاملہ اٹھائیں گے۔

کچھ دیگر اہم ترین متنازع نوادرات میں موجودہ نائیجیریا سے ملنے والے ’بینن برونزز‘ نامی کانسی کے مجسمے، کم از کم 23 ہزار چینی نوادرات کا مجموعہ، مصر کی جانب سے دعویٰ کردہ روزیٹا سٹون اور ایسٹر آئی لینڈ کے راپا نوئی سے نکلنے والے دو پتھروں کے مجسمے شامل ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ