کراچی کے تاریخی علاقے صدر میں 1947 سے قائم ایک ایسی دکان موجود ہے جو اپنے اندر تحریک پاکستان کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔
ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر اس دکان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جب لوگ قائدِ اعظم اور نوابزادہ لیاقت علی خان سے جڑی تاریخی ’جناح کیپس‘ خریدنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
یہ دکان محض ٹوپیوں کی فروخت کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان کے قومی ہیرو کے تاریخی پہناوے اور ان کی شناخت کو زندہ رکھنےکا اصل مرکز ہے۔
چار نسلوں کا سفر اور قائدین سے جڑی یادیں
کراچی کے تاریخی علاقے صدر میں 1947 کے بعد قائم ہونے والی ایک دکان اسی تاریخی شناخت اور کاریگری کی آخری امانت داروں میں سے ایک ہے۔
دکان کے مالک الطاف الرحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان کا خاندان پچھلی چار نسلوں سے اس فن کی روایت کو اپنے ہاتھوں کے ہنر کے ذریعے زندہ رکھے ہوئے ہے۔‘
الطاف الرحمان کے مطابق: ’میں نے اپنے والد اور دادا کے منہ سے یہ بات سنی کہ جب ان کے بڑے اس کاروبار کو سنبھالتے تھے تو ان کی دکان کی تیار کردہ ٹوپیاں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے زیرِ استعمال آتی رہیں۔‘
ماضی کے اوراق الٹتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’جو ٹوپی قائدِ اعظم پہنتے تھے، اسے پہلے ’مسلم کیپ‘ کہا جاتا تھا۔ تاہم، جب بانی پاکستان نے اس کیپ کو مستقل طور پر اپنی شخصیت کا حصہ بنایا، تو یہ دنیا بھر میں جناح کیپ کے نام سے مشہور ہو گئی اور آج بھی لوگ اسے اسی نام سے خریدتے ہیں۔‘
جناح کیپ اور لیاقت علی خان کیپ میں کیا فرق ہے؟
بہت سے لوگ دونوں ٹوپیوں کو ایک ہی سمجھتے ہیں، لیکن اس دکان کے کاریگر ان دونوں کے باریک فرق کو بخوبی جانتے ہیں۔
جناح کیپ ایک کھڑی اور لمبی شکل میں بنی ہوتی ہے، جس کا اوپری حصہ لمبائی میں ہوتا ہے اور دونوں نوکیں ایک ہی سمت میں یکساں لمبی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جبکہ لیاقت علی خان کیپ کا اوپری حصہ یا سطح ایک پتے (Leaf Shape) کی مانند ہلکی سی گول اور آگے سےنوکیلی ہوتی ہے۔
الطاف الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان تاریخی ٹوپیوں کی سب سے بڑی خاصیت ان کی تیاری میں شامل نفاست ہے۔ یہ کیپس 90 فیصد ہاتھ کی کاریگری سے تیار کی جاتی ہیں جبکہ صرف 10 فیصد کام مشین کا ہوتا ہے۔ ان کی تیاری میں بھیڑ چمپڑا(Sheepskin) استعمال کیا جاتا ہے، جو ان کی پائیداری اور نفاست کو چار چاند لگا دیتی ہے۔‘
قومی میوزیم کا اعتبار اور نایاب ترمیم کا کام
اس دکان کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ محض نئی ٹوپیاں ہی تیار نہیں کرتے، بلکہ قومی میوزیم میں محفوظ کی گئی وہ تاریخی کیپس بھی، جو کبھی خود قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے زیر استعمال رہی ہیں، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے اسی دکان پر لائی جاتی ہیں۔
ملکی اور بین الاقوامی مقبولیت
دکان کے مالک الطاف کا کہنا ہے کہ ’نہ صرف پاکستان بھر سے بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح اور اوورسیز پاکستانی بھی خصوصی طور پر ان کی دکان کا رخ کرتے ہیں اور جناح کیپ کو ایک یادگار (Souvenir) کے طور پر خرید کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔‘
شخصیت کو معتبر بنانے کا ذریعہ
آج کے دور میں بھی جناح کیپ کی اہمیت اور وقار اسی طرح برقرار ہے۔
الطاف کا کہنا ہے کہ ’جب بھی ملک میں کوئی بڑا سیاسی یا قومی ایونٹ ہوتا ہے چاہے وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزراء کی حلف برداری کی تقریب ہو، یا پھر عدالتوں کے بڑے فیصلے اور اہم قومی سیمینارز سیاسی اور سماجی شخصیات اپنی شخصیت کو معتبر، باوقاراور قومی شناخت سے آراستہ کرنے کے لیے آج بھی یہی کیپ پہننا پسند کرتی ہیں۔‘
بدلتے وقت کا چیلنج اور بقا کی جنگ
آج کے جدید اور فاسٹ فیشن کے دور میں، جہاں ریڈی میڈ کپڑوں اور جدید کیپس کا دور دورہ ہے، اس روایتی دکان کو برقرار رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ منافع کم ہوتے ہوئے تناسب اور ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگروں کی کمی کے باوجود، اس دکان کے مالک اسے محض کاروبار نہیں بلکہ اپنے آباؤ اجداد کی میراث اور قومی امانت سمجھتے ہیں۔
یہ صرف ٹوپی بیچنے کا کام نہیں ہے، دکان پر موجود کاریگر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، یہ اس ملک کی تاریخ کا ایک حصہ ہے جو ہم نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔