گیارہ ستمبر حملے کے پچیس سال، عالمی عسکریت پسندی کا ارتقا

اب یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہو چکا ہے کہ آن لائن کون شخص کن وجوہات کی بنا پر اور کس کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔

امریکہ اور چین کی جیو پولیٹکل رقابت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی جگہ لے لی ہے (گرافک: اینواتو)

گیارہ ستمبر 2026 کو امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے 25 سال مکمل ہو جائیں گے، جنہوں نے دنیا میں سکیورٹی کا رخ موڑ دیا اور ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے کا آغاز کیا۔ اگلی دو دہائیوں کے دوران القاعدہ اور اس سے جیسے گروپس عالمی سکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز رہے۔

’دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ‘ کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان حکومت کا اس بنیاد پر خاتمہ کر دیا گیا کہ انہوں نے القاعدہ کے خلاف تعاون کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم، 25 سال بعد طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں ہیں اور القاعدہ اب بھی طالبان کا مضبوط اتحادی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی دہشت گردی نمایاں طور پر بدل چکی ہے۔

امریکہ اور چین کی جیو پولیٹکل رقابت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی جگہ لے لی ہے، جس کے نتیجے میں انسدادِ دہشت گردی اب بین الاقوامی سکیورٹی کے اعلیٰ ایجنڈے میں شامل نہیں رہی۔ عالمی دہشت گردی کا روپ اب بدل چکا ہے۔ ایشیا اور افریقہ جیسے کچھ خطوں میں یہ اب بھی وجودی خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ یورپ اور امریکہ جیسے علاقوں میں اس میں کمی آئی ہے اور اب یہاں اس سطح کی ہنگامی صورت حال کی ضرورت نہیں رہی جو نائن الیون حملوں سے پہلے کے سالوں میں دیکھی گئی تھی۔

درج ذیل اہم رجحانات آج عالمی دہشت گردی کی موجودہ نوعیت کو تقویت دیتے ہیں۔

بڑے پیمانے کے عالمی دہشت گردانہ حملوں کا دور بظاہر ختم ہو چکا ہے۔ آج، دہشت گرد گروہوں کے پاس نہ تو اعلیٰ سطح کے بیرونی حملے کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ سب صحارا افریقہ، پاکستان اور افغانستان جیسے مقامات پر بڑے حملے نہیں کر رہے بلکہ عالمی دہشت گرد گروہ اب بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے آپریشنز سے دور ہو چکے ہیں۔ اس کے بجائے، وہ اب کم شدت والے حملے—جیسے چاقو مارنا اور گاڑی چڑھانا وغیرہ—سرانجام دینے کے لیے مغرب میں موجود لون ایکٹرز (تنہا کارروائی کرنے والے خود سے شدت پسند بننے والے افراد) پر انحصار کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، عالمی دہشت گرد گروہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں مقامی عسکریت پسند اور باغی تحریکوں کے ساتھ مل کر اپنے ایجنڈوں کو مقامی سانچے میں ڈھال لیا ہے۔ اگرچہ اپنے اندازِ فکر کی عالمی خلافت قائم کرنے کا ان کا مجموعی ہدف تبدیل نہیں ہوا، لیکن ان کے طریقہ کار میں بتدریج تبدیلی آئی ہے۔ اب تشدد ان چند حکمتِ عملیوں میں سے ایک ہے جنہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ گورننس، بیانیے کی تشکیل اور ذہنی و ادراکی جنگ (کاگنیٹو وارفیئر) میں بھی مشغول ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، موجودہ حالات کے پیشِ نظر عالمی عسکری گروہوں کی توجہ دور کے دشمن—یعنی امریکہ اور مغرب—سے ہٹ کر قریب کے دشمن—یعنی مسلم ریاستوں میں قائم جمہوری حکومتوں—پر مرکوز ہو چکی ہے۔

نظریاتی طور پر، دو آپس میں جڑے ہوئے رجحانات نے عالمی دہشت گردی کے منظر نامے کو ایک حد تک قابلِ ضبط تو بنا دیا ہے، لیکن اس کی منتشر نوعیت کے باعث یہ مزید پیچیدہ بھی ہو گیا ہے۔

ایک طرف، عالمی عسکریت پسند تحریک القاعدہ اور داعش کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ اگرچہ دونوں گروہ ایک ہی نظریاتی مقاصد کے لیے کوشاں ہیں، لیکن ان کے طریقہ کار میں بنیادی اختلاف ہے۔ اسلوب کے ان اختلافات نے گہری دشمنی کی شکل اختیار کر لی ہے، جس نے عالمی عسکریت پسند تحریک کو کمزور کیا ہے۔ القاعدہ اور داعش دونوں اپنے عروج کا دور گزار چکے ہیں۔ اس کے باوجود، اپنی کمزوری کے تئیں، عالمی عسکریت پسند تحریک اب بھی لچک دار اور ایک بڑی قوتِ اثر قائم رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب، مغربی دائیں بازو کے شدید ترین اور انتہا پسندانہ روپوں کا ابھار بھی—جنہیں نسلی علیحدگی پسند گروہوں کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے— عالمی دہشت گردی کے منظر نامے پر سامنے آیا ہے۔ روس-یوکرین جنگ نے مغرب میں انتہا پسند دائیں بازو کے عالمی ابھار میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ یہ گروہ اقلیت مخالف، جمہوریت مخالف، انتہائی قوم پرست، غیر ملکیوں سے نفرت کرنے والے (ژینو فوبک) اور مضبوط ریاستوں کے حامی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان دو نظریاتی انتہاؤں کے درمیان، دو نئے نظریاتی زمرے ابھر کر سامنے آئے ہیں: مخلوط نظریات (مکسڈ آئیڈیالوجیز) اور لاادریت یا باطل پر مبنی پرتشدد انتہا پسندی (نہلِسٹک وائلنٹ ایکسٹریمزم)۔

مخلوط یا ’سیلاد بار‘ (متنوع) نظریات کے پیروکار غیر ربط نظریاتی نمونوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان افراد نے اپنی محسوس کردہ نفسیاتی ضروریات اور شکایتوں کے مطابق مختلف نظریاتی ڈھانچوں سے اپنی پسند کا مواد چن کر خود کو شدت پسند بنایا ہوتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ قائم شدہ نظریاتی سانچوں میں مکمل طور پر فٹ نہیں بیٹھتے۔

مزید یہ کہ حال ہی میں غیر نظریاتی انتہا پسندی پر مبنی لاادریت کا پرتشدد رجحان (نہلسٹک وائلنٹ ایکسٹریم ازم)—خاص طور پر کم عمر نوجوانوں (ٹین ایجرز) میں—مغرب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سامنے آیا ہے۔ انتہا پسندی کی اس شاخ کے پیروکار تشدد کی عظم بیان کرتے ہیں اور اسے کسی سیاسی، نسلی یا نظریاتی مقصد کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے بذاتِ خود ایک مقصد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک رجحان ہے، کیونکہ اس پر عمل پیرا افراد کا گہرا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف ایک ہدف بننے والے شدت پسند کی اوسط عمر میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ شدت پسندی کی طرف راغب ہونے کا دورانیہ بھی مختصر ہو گیا ہے۔

پچیس سال بعد، دہشت گردوں کی بھرتی، شدت پسندی، مواصلات، منصوبہ بندی اور سازش، مالی اعانت، اور پروپیگنڈے کی اشاعت، یہ تمام امور ڈیجیٹل اور انکرپٹڈ (محفوظ) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اس نے ممکنہ شدت پسندوں کے لیے افغانستان، عراق اور شام جیسے مقامات کا سفر کرنے کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ چنانچہ، دہشت گردوں کی پناہ گاہیں جنگی علاقوں کی غیر منظم جگہوں سے نکل کر آن لائن دنیا میں منتقل ہو گئی ہیں۔

نتیجتاً، آمنے سامنے (روبرو) ہونے والی شدت پسندی کی جگہ آن لائن خود سے شدت پسند بننے کے عمل نے لے لی ہے، جہاں ذاتی شکایات، اہمیت کی تلاش اور شناخت کا بحران لوگوں کو شدت پسندی کی راہوں کی طرف دھکیلتے اور راغب کرتے ہیں۔ بلا شبہ، آن لائن بیانیے اور نظریاتی منشور قائم شدہ دہشت گرد نیٹ ورکس ہی شیئر کرتے ہیں، لیکن اب وہ میدان جہاں یہ تمام رجحانات جنم لیتے ہیں، جنگی علاقوں کے بجائے انٹرنیٹ ہے۔

مختصر یہ کہ، 9/11 کے 25 سال بعد، دہشت گردی زیادہ پیچیدہ اور ناقابلِ پیش گوئی ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلے سے زیادہ قابلِ ضبط بھی ہے۔ اب یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہو چکا ہے کہ آن لائن کون شخص کن وجوہات کی بنا پر اور کس کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ تاہم، اس نوعیت کے رجحانات سے پیدا ہونے والا خطرہ کم درجے (محدود پیمانے) کی دہشت گردی تک محدود ہے۔

آئندہ چل کر، آن لائن دنیا میں دہشت گرد نیٹ ورکس، بیانیوں اور نظریات کے گہرے اثر و رسوخ کے باعث ریاستوں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ، جبکہ ممکنہ شدت پسندوں کی کم ہوتی عمر کی وجہ سے تعلیمی اداروں اور سماجی گروہوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔

عالمی دہشت گردی کی اس بدلی ہوئی نوعیت کے پیشِ نظر، پرتشدد انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ’ریاستی و سماجی حکمتِ عملی‘ (ہول آف سٹیٹ اینڈ سوسائٹی اپروچ) کا ہونا ضروری ہے۔ ریاستیں اکیلے یہ کام نہیں کر سکتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریاست کی مدد کے باوجود معاشرے کے لیے بھی تنہا اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔

مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین