امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے اہداف پر پھر حملے، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ مربوط میزائل اور ڈرون حملے میں ایک مینٹیننس سینٹر، گوداموں اور امریکی نگرانی کے’گائیڈنس سسٹم‘ کو تباہ کیا گیا۔

امریکی سینٹ کام نے 21 اگست 2026 کو ایکس پر یہ تصویر جاری کی جس میں ایران کے خلاف ناکہ بندی میں استمعال ہونے والا ایک ہیلی کاپٹر اتر رہا ہے (فائل فوٹو/سینٹ کام)

امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں ایک دوسرے پر حملوں میں غیر اعلانیہ تعطل کے بعد ایک بار پھر براہ راست فوجی جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، امریکی افواج نے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں تہران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، بحری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فوکس نیوز‘ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں حملوں کی ایک اضافی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’امریکی افواج نے ایران کے ریڈارز کو بھی نشانہ بنایا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن یہاں کریں

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ناکام کوشش اور اردن میں امریکی اڈے پر آٹھ میزائل داغے جانے کے جواب میں کیے گئے۔

ایران کا جوابی حملہ

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے بدھ کو کہا کہ اس نے عراق کے خودمختار کرد علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ مربوط میزائل اور ڈرون حملے میں ایک مینٹیننس سینٹر، گوداموں اور امریکی نگرانی کے’گائیڈنس سسٹم‘ کو تباہ کیا گیا۔

ایران نے امریکہ کے اتحادی ممالک میں بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اہداف پر حملے کیے گئے۔

اردن کی فوج نے تصدیق کی کہ ایران سے اس کی فضائی حدود میں 13 بیلسٹک میزائل داخل ہوئے، جن میں سے 10 کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا، جبکہ تین میزائل آبادی سے دور ویران علاقوں میں جا گرے۔ فوج کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کویت کی فوج نے بھی بدھ کی صبح میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کی، جبکہ بحرین میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندوں نے فضائی حملوں کے انتباہی سائرن سنے۔

ایران میں شہری مقامات متاثر ہونے کا دعویٰ

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں میں شہری مقامات اور ایک ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اے پی کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک ایسے گھر کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ ہرمزگان صوبے کے نائب گورنر احمد نفیسی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ حملے میں دو افراد جان سے گئے اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔

تاہم اے ایف پی کے مطابق ایرانی ہلال احمر نے بعد میں بتایا کہ شادی کی تقریب کے دوران ایک گھر پر امریکی میزائل کے چھروں کے باعث چار افراد جان سے گئے اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ انہوں نے ایران کی پاسداران انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے برعکس ایرانی فورسز ایسا کرتی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی

تازہ کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے اتوار کو امریکی افواج نے ایرانی جزیرے لارک پر راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھنے پر قائم ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔

یونان کی بحری خطرات سے متعلق ادارے ’میریسکس‘ کے مطابق پیر کی رات دو خام تیل بردار ٹینکرز کو نامعلوم نوعیت کے ’پروجیکٹائلز‘ سے نقصان پہنچا۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بھی ایک واقعے کی اطلاع دی، تاہم اس کے مطابق کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات سامنے نہیں آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ ایران امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی طرف واپسی کے اقدام کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے ’دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی‘ دوبارہ اختیار کرنے سے سفارتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ واشنگٹن کو اپنے تازہ حملوں پر ’پچھتاوا‘ ہوگا اور حملہ آوروں کو ’سخت سزا‘ دی جائے گی۔

امریکی طیارہ بردار جہاز تھائی لینڈ کے قریب پہنچ گیا

دوسری جانب امریکی جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ بدھ کو تھائی لینڈ کی ایک بندرگاہ کے قریب پہنچ گیا۔ اے ایف پی کے نمائندوں نے جہاز کو لا ایم چابانگ بندرگاہ کے قریب دیکھا۔

تقریباً پانچ ہزار اہلکاروں پر مشتمل اس جہاز کے عملے کا نومبر کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب انہیں خشکی پر جانے کا موقع ملے گا۔ یہ جہاز کئی ماہ سے سمندر میں تعینات ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا