امریکی فوج نے منگل کو ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جس نے بعد تہران نے جوابی کاررائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی ایران کی جانب سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں اور امریکی افواج پر حملے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
امریکی حملوں سے ایک ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں میں وقفہ ختم ہوگیا ہے جس سے چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری ایران امریکہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
تازہ حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر تہران نے حملوں کا جواب دیا تو امریکہ مزید سخت کارروائی کرے گا۔
ادھر ایران کی مسلح افواج کی جنرل سٹاف اور مشترکہ عسکری کمانڈ نے امریکی حملوں کے جواب میں امریکہ کے خلاف ’تباہ کن اور کاری ضرب‘ لگانے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق امریکی طیاروں نے آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے پر مچھلی کی خوراک بنانے والی ایک فیکٹری سمیت صوبہ ہرمزگان میں متعدد شہری اہداف کو نشانہ بنایا۔
متاثرہ مقامات میں ایک فشنگ جیٹی اور سیرک میں بندرگاہوں و بحری ٹاور بھی شامل ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اہم بحری راستہ ایران کے ساحل کے قریب واقع ہے اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
تازہ جھڑپوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ رواں ہفتے خام تیل کی قیمت تقریباً سات فیصد بڑھ چکی ہے، جبکہ رواں سال اب تک اس میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اتوار کو بھی امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔
اتوار کے حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی تنصیبات پر میزائل داغے جنہیں روک لیا گیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنی سمندری حدود کے قریب ایرانی ڈرون مار گرایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں شہری بحری جہازوں، تجارتی آمدورفت اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو لاحق فوری خطرے کو ختم کرنا ہے۔
تاہم خطے میں دوبارہ کھلی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جہاں ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔