مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا اجلاس آج

پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7 اگست کو مکہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کے موقع کی یہ تصاویر سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیں (فائل فوٹو)

 پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کی گئی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج (پیر) استنبول میں ہو رہا ہے، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شرکت کر رہی ہے۔

یہ اجلاس تینوں ممالک کے درمیان نئے دفاعی فریم ورک کو عملی شکل دینے کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔

ترکی کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بیرقدار اوغلو شریک ہوں گے، جبکہ سعودی وفد میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی شامل ہیں۔

اجلاس میں کیا متوقع ہے؟

تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام پر مشتمل سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی مکہ دفاعی اتحاد کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل تیار کرے گی اور دفاعی و عسکری تعاون کو عملی شکل دینے کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔

توقع ہے کہ اجلاس میں تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور رابطہ کاری بہتر بنانے اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بات چیت ہوگی۔

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوغان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔

معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف باہمی تعاون کو منظم کرنا ہے۔

معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ شق اجتماعی دفاع کے تصور کے حوالے سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، اگرچہ مکہ معاہدہ نیٹو کا متبادل نہیں ہے۔

معاہدہ ایسے وقت میں کیوں اہم ہے؟

یہ نیا دفاعی فریم ورک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایران سے متعلق تنازع نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں ممالک خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، تاہم تینوں کی اپنی اپنی علاقائی ترجیحات اور موجودہ دفاعی شراکت داریاں بھی ہیں۔

اسی لیے استنبول اجلاس کو اس بات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ تینوں ممالک نئے معاہدے کو کس حد تک عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں۔

کیا دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں؟

پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 27 اگست کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد امن کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ’ایک ارتقا پذیر سکیورٹی ڈھانچے کے طور پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کے حوالے سے اس کے عزم سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں اپنے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ ’تاہم، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا