او آئی سی غیر معمولی اجلاس میں فلسطین پر جامع قرارداد منظور

قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں کی ضبطی، غیرقانونی آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد، الحاق اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی پالیسی کو مسترد کیا گیا۔

 جدہ میں 27 اگست، 2026 کو او آئی سی کے ہیڈکوارٹرز میں 23ویں غیر معمولی اجلاس کی تصویر(او آئی سی)

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کونسل برائے وزرائے خارجہ کے جمعرات کو ہوئے 23 ویں غیر معمولی اجلاس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیرقانونی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جامع قرارداد منظور کرلی گئی۔

قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں کی ضبطی، غیرقانونی آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد، الحاق اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی پالیسی کو مسترد کیا گیا۔

 عالمی برادری اور او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف قانونی، سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

جدہ میں او آئی سی کے ہیڈکوارٹرز میں وزرائے خارجہ کی کونسل کے 23 ویں غیر معمولی اجلاس میں اعلیٰ سطح کی سفارتی شخصیات نے شرکت۔ اجلاس کے ایجنڈے میں دو اہم امور شامل تھے: نئے سیکریٹری جنرل کا انتخاب اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر غور و خوض۔

اجلاس میں اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اسماعیل ولد شیخ احمد کو متفقہ طور پر او آئی سی کا نیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی نمائندگی او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید محمد فواد شیر نے کی۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کی خدمات کو سراہا اور نومنتخب سیکریٹری جنرل کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سفیر فواد شیر نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری، مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ای-ون علاقے میں توسیعی سرگرمیوں کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف او آئی سی کے متحد اور مضبوط موقف پر زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مسئلہ جموں و کشمیر پر او آئی سی کی مسلسل حمایت کو سراہا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے تنظیم کی کوششیں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا