فیلڈ مارشل کا دورہ ایران، ’امریکی نمائندہ بن کر جانے کا دعویٰ گمراہ کن‘: دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران خطے میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں 24 اگست 2026 کو تہران میں سپیکر محمد باقر قالیباف (دائیں) پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (بائیں) کا استقبال کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں (ایرانی پارلیمنٹ آفس/ اے ایف پی)

پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ایران خطے میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا اور یہ دعوے ’گمراہ کن‘ اور ’حقائق کے منافی‘ ہیں کہ انہوں نے یہ دورہ صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے رواں ہفتے ایران کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

آئی ایس پی آر نے دورے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ جاری امریکہ - ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے میں پائیدار امن اور مستقل طور پر عدم استحکام کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنے کے سلسلے میں کیا گیا۔

جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر سے ملاقات کو ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے ’اہم پیش رفت‘ کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے اس دورے کے حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا: ’علاقائی محاذ پر چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جو پاکستان کی جانب سے امریکی، ایران تنازعے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس دوران ہونے والی بات چیت میں علاقائی کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے اس دورے سے ’واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات ختم کرنے میں اسلام آباد کے مخلصانہ اور تعمیری کردار‘ کو بھی اجاگر کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ’بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، کیونکہ ان کا دورہ خالصتاً پاکستان کے ثالث کے طور پر جاری کردار کے تناظر اور پس منظر میں کیا گیا تھا۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سفارتی روابط کو فعال طور پر جاری رکھے گا اور امن مذاکرات کی بحالی اور تنازعے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بھی کسی واضح نتیجے کے بغیر جاری ہے۔

تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر شدید معاشی پابندیاں عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا اور اتحادی ملکوں سے بھی ساتھ دینے کا کہا۔

جس پر تہران نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ میں شامل ہوگا اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان