پمز ہسپتال میں آتشزدگی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز میں آتشزدگی کا واقعہ کیسے پیش آیا اور اس حادثے میں اب تک کتنی اموات ہوئیں؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز میں بدھ کی صبح آتشزدگی کا دردناک واقعہ پیش آیا جس میں 14 بچوں کی موت ہوئی۔

واقعہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر صبح 06:45 پر پیش آیا۔

پمز ہسپتال کی ترجمان کے مطابق حادثے کے وقت وارڈ میں 15 بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک ہی کو بچایا جا سکا ہے۔

اس واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے مرنے والے بچوں میں سے اب تک نو کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی ہیں جبکہ بعض والدین نے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ لاشیں لینے سے انکار کر دیا ہے۔

آگ لگی کیسے؟

پاکستان کے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ واقعہ صبح 6:45 میں اس وارڈ میں پیش آیا جہاں نومولود بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں بتایا کہ وارڈ میں لگے اے سی میں دھماکہ ہوا اور وہاں موجود آکسیجن میں آگ لگ گئی جو نارمل سے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور بتایا کہ ’وارڈ سائیڈز سے بند تھی، شیشے توڑ کر اندر لوگ داخل ہوئے۔‘

طارق فضل چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وارڈ میں آگ دھماکے سے لگی اور پھر تیزی پھیلی جس کے باعث ہسپتال انتظامیہ کو اتنا وقت نہیں مل سکا کہ وہ بچوں کو وہاں سے منتقل کر سکیں۔‘

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’زیادہ تر بچوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والدین کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ جس وارڈ میں آگ لگی اس کے دروازے بند تھے۔ اس پر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’بچوں کی سکیورٹی کے باعث وارڈ بند تھی مگر دروازوں کو زنجیروں سے بند نہیں کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن جب اس خاص حصے میں آگ لگی تو پھر شاید اس دروازے سے فائر بریگیڈ کو رسائی نہیں ملی، جس کے لیے یہ مختلف شیشے توڑے گئے تاکہ اطراف سے آگ بجھانے کی کوشش کی جا سکے۔‘

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا قیام

پمز کے ایم سی ایچ وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے۔

اس بارے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد کمیٹی کے کنوینر جبکہ ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی اور اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا کمیٹی کے ارکان مقرر کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کا مقصد نرسری میں آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین کرنا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان