باکسنگ رنگ میں پاکستانی لڑکیوں کی نئی لڑائی

ال ہی میں خواتین باکسرز نے ایک بار پھر قوم کی توجہ حاصل کی، جب 22 سالہ فاطمہ زہرا جولائی کے آخر میں گلاسگو میں 60 کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیت کر کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئیں۔

7 جولائی 2026 کو لی گئی اس تصویر میں کم عمر باکسر حورین زہرا کراچی کے علاقے لیاری میں واقع ایک مقامی باکسنگ کلب میں سپارنگ سیشن کے دوران شیڈو باکسنگ کی مشق کر رہی ہیں (اے ایف پی)

چہرے سے پسینہ ٹپک رہا ہے، نوآموز کم عمر باکسر حورین زہرا پنچوں کے مختلف امتزاج کی مشق کر رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی آئیڈیل عالیہ سومرو کے نقشِ قدم پر چلیں۔

21 سالہ عالیہ سومرو گذشتہ سال اس وقت قومی شہ سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے بینکاک میں ایک بین الاقوامی مقابلہ جیتا۔ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں پدرشاہی اور ثقافتی روایات اکثر یہ طے کرتی ہیں کہ لڑکیوں اور خواتین کی جگہ گھر میں ہے، جم یا سپورٹس کلبوں میں نہیں، وہاں ایک نوجوان خاتون کی یہ کامیابی غیر معمولی سمجھی گئی۔

حال ہی میں خواتین باکسرز نے ایک بار پھر قوم کی توجہ حاصل کی، جب 22 سالہ فاطمہ زہرا جولائی کے آخر میں گلاسگو میں 60 کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیت کر کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئیں۔

13 سالہ زہرا بھی، عالیہ سومرو کی طرح، کراچی کے کھیلوں کے شوقین علاقے لیاری سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا کٹھن اور پسماندہ علاقہ ہے جو کبھی گینگ وار اور غربت کے سائے میں گھرا رہتا تھا۔

اور اپنی پسندیدہ باکسر کی طرح وہ بھی معاشرتی مخالفت سے لاپروا ہیں۔

سیاہ حجاب درست کرتے ہوئے نوعمر خورین نے اے ایف پی کو بتایا: ’وہ (معاشرہ) سمجھتے ہیں کہ یہ (باکسنگ) لڑکیوں کے لیے نہیں ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو گھر سے باہر بھی نہیں جانا چاہیے کیونکہ باہر لڑکیاں محفوظ نہیں ہوتیں۔‘

’لیکن باہر نکلے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ آپ کو گھر سے باہر جانا ہی پڑتا ہے۔‘

ان کے ارد گرد دوسری لڑکیاں بھی کلاس کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ وہ اپنی اوپری اضافی تہیں اتار دیتی ہیں، لیکن پھر بھی سروں سے پاؤں تک ڈھکی رہتی ہیں۔ ان کے جسم سکارف، لمبی آستین والی قمیضوں اور شلواروں سے ڈھکے ہوتے ہیں۔

ان کی تربیتی نشست لیاری کی ایک خستہ حال عمارت کے معمولی سے کمرے میں منعقد ہوتی ہے، جہاں دیواریں بوسیدہ ہیں اور تیز آواز کرنے والے پنکھے چلتے ہیں۔ جب دوپہر کے بعد بجلی آتی ہے تو یہ ہی پنکھے گرمی کی شدت سے کچھ راحت فراہم کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی نگرانی استاد یونس قمبرانی کرتے ہیں، جو 56 سالہ تجربہ کار کوچ ہیں۔ انہوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل اپنے باکسنگ جم کے دروازے لڑکیوں کے لیے کھولے تھے اور تب سے درجنوں نوجوان فائٹرز کو تربیت دے چکے ہیں۔

قمبرانی نے اے ایف پی کو بتایا: ’میرا یقین تھا کہ خواتین کی باکسنگ لڑکیوں کے لیے بہت اہم ہے۔‘

’میری دو بیٹیاں خواتین کی باکسنگ شروع کرنے والی پہلی لڑکیاں تھیں۔ جو لڑکیاں ہمارے ساتھ تربیت حاصل کرتی ہیں، وہ بہت اعتماد کے ساتھ گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ وہ غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور کسی چیز سے نہیں ڈرتیں۔‘

گھر سے نکلنے کی جدوجہد

لڑکیوں کی اپنے گھروں سے نکلنے اور کھیلنے کے لیے محفوظ جگہیں تلاش کرنے کی جدوجہد دراصل گذشتہ چند دہائیوں میں خود لیاری کے سفر کی بھی عکاس ہے۔

ایک وقت تھا جب لیاری کو پاکستان کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران کراچی ایک اہم سپلائی کا مرکز بن گیا تھا، جس کے باعث اس علاقے میں اسلحے اور منشیات کی بہتات ہو گئی تھی۔

2013 میں نیم فوجی دستوں نے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت آپریشن شروع کیا، جس کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی خلا مذہبی جماعتوں نے پُر کر دیا۔

ان جماعتوں نے 2018 کے انتخابات جیتے اور اس کے نتیجے میں لڑکیوں کی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں بڑھ گئیں۔ بعض علاقوں میں لڑکیوں کو سائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

اس کے باوجود اس گہرے قدامت پسند ماحول میں کھیل پنپتے رہے اور لیاری نے متعدد کھلاڑی پیدا کیے، جن میں مضبوط اعصاب اور غیر معمولی حوصلے والی لڑکی باکسرز بھی شامل ہیں۔

کچھ مقامی والدین، جیسے حورین زہرا اور سومرو کے والدین، اپنی بیٹیوں کی باکسنگ کے دستانے پہننے اور اس کھیل میں آگے بڑھنے کے عزم کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

عالیہ سومرو، جو گذشتہ سال تھائی لینڈ میں حاصل کی گئی کامیابی کی بنیاد پر مزید فتوحات سمیٹنے کی خواہش رکھتی ہیں، سمجھتی ہیں کہ لڑکیوں کو بھی کھیلوں میں حصہ لینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا لڑکوں کو۔

سڑک کے دوسری جانب واقع ایک مخلوط باکسنگ اکھاڑے میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو بہت کمزور سمجھتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیاں کمزور ہیں اور کچھ نہیں کر سکتیں۔

’لیکن میرا یقین ہے کہ لڑکیاں ہر کام کر سکتی ہیں، اور بعض اوقات مردوں سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل