نیپال اور تبت میں سیلاب سے لاپتہ سینکڑوں افراد کی تلاش جاری، 160 سے زائد اموات

نیپال کے سیاحتی بورڈ کے ترجمان سنیل شرما کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں 47 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 24 کینیڈین شامل ہیں۔

نیپال میں امدادی کارکن جمعرات کو بھی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اُن سینکڑوں افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جو گذشتہ روز مٹی کا تودہ دریا میں گرنے سے آنے والے سیلاب کے باعث لاپتہ ہیں۔ اس واقعے میں اب تک 162 اموات ہو چکی ہیں۔

بدھ کو چین کے تبت سے ملحق ہمالیائی سرحدی علاقے میں مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ دریا میں جا گرا تھا، جس سے تباہ کن سیلاب آیا اور قریبی قصبوں اور وادیوں میں تباہی پھیل گئی۔

نیپال کے سیاحتی حکام کے مطابق لاپتہ 579 سیاحوں میں 400 سے زیادہ غیر ملکی شامل ہیں۔ یہ سانحہ ایسے علاقے میں پیش آیا جو ٹریکنگ کرنے والوں اور یاتریوں سے بھرا رہتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد 162 سے بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پولیس کے ترجمان ابی نارائن کافلے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’یہ تعداد بڑھے گی کیونکہ ہم نے دوبارہ تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے اور مزید لاشیں ملنے کی توقع ہے۔‘

نیپال کے سیاحتی بورڈ کے ترجمان سنیل شرما نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ لاپتہ سیاحوں میں 47 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 24 کینیڈین شامل ہیں۔

دوسری جانب چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کا تودہ گرنے سے 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نیپال اور چین کے اعداد و شمار میں کوئی دوہرا اندراج موجود ہے یا نہیں۔

تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی، مٹی اور ملبے کے خوفناک ریلے گیرونگ کے سرحدی مقام پر درجنوں افراد کو بہا لے گئے جبکہ مزید نیچے نیپال میں گھروں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

زندہ بچ جانے والے 68 سالہ کیشو پرساد برال، جو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، نے بتایا کہ ’کیچڑ کا ایک بہت بڑا ریلا سیدھا ہماری طرف آ رہا تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’جیسے جیسے وہ قریب آتا گیا، اس کی سطح بلند ہوتی گئی۔ جب میں نے اسے اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے چھت پر لے جانے کی کوشش کی، لیکن وہ کیچڑ میں بہہ گئی۔‘

چار گھنٹے بعد ایک ہیلی کاپٹر نے انہیں بچا لیا۔

انہوں نے مزید کہا: ’میری بیوی اب بھی کہیں مٹی کے نیچے ہے۔ وہ جا چکی ہے۔‘

ہنگامی امداد کی فراہمی شروع

نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خیمے، خوراک اور دیگر ہنگامی امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے جو ہمسایہ ملک انڈیا نے فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیپالی حکام کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر گر گیا، جس سے سیلاب آیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جس واقعے کو ابتدا میں 4.4 شدت کا زلزلہ سمجھا گیا تھا، دراصل وہ گلیشیئر سے چٹان اور برف کے منہدم ہونے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی، جس کے بعد ملبے کا بہاؤ شروع ہوا۔

متاثرین میں سے بہت سے افراد کیلاش مانسروور یاترا پر جا رہے تھے، جو تبت میں واقع ایک بلند مقام ہے اور ہندوؤں، بدھ مت کے ماننے والوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

ہندو عقیدے کے مطابق کوہِ کیلاش بھگوان شیو کی رہائش گاہ ہے، جبکہ جھیل مانسروور بھی مختلف مذاہب میں مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایک ڈیزاسٹر ریسپانس ایڈوائزر بھیجنے کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کر رہا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کا ملک صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ان سیلابوں کو ’انتہائی تباہ کن‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں اور شراکت دار ادارے متاثرہ نیپالی کمیونٹیز کی مدد کے لیے امدادی سامان اور عملہ روانہ کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا