انڈیا اور چین کے متنازع سرحد سے متعلق مذاکرات

انڈیا اور چین کے مطابق انہوں نے مشترکہ متنازع سرحد کے بعض حصوں کی حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

23 مارچ، 2015 کو نئی دہلی میں ہونے والی ایک ملاقات کے لیے انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور انڈیا چین سرحدی تنازعے پر چین کے خصوصی نمائندے اور سٹیٹ کونسلر یانگ جیچی پہنچ رہے ہیں۔ یانگ جیچی تین روزہ سرکاری دورے پر تھے (اے ایف پی)

انڈیا اور چین نے منگل کو کہا کہ انہوں نے مشترکہ متنازع سرحد کے بعض حصوں کی حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ملاقات کی۔

دی ہندو کے ایڈیٹر سریش نمباتھ کہتے ہیں ’گذشتہ دو برسوں کے دوران انڈیا اور چین کے تعلقات میں سست رفتاری سے بحالی دیکھنے میں آئی ہے، جس کا زیادہ تر زور معاشی اور عوامی روابط پر رہا۔ اب ممکن ہے دونوں ممالک اپنے بنیادی اختلافات سے نمٹنا شروع کر رہے ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ اس لیے بھی ہماری اہم خبر ہے کیونکہ اس کا وقت بہت اہم ہے۔

’یہ پیش رفت ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب چند ہفتوں بعد چینی صدر شی جن پنگ سات برس میں اپنے پہلے دورۂ انڈیا کے لیے دہلی آنے والے ہیں۔‘

انڈین سفارت خانے کے ایک بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے ’دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے، استحکام برقرار رکھنے، سرحدی علاقوں میں امن و سکون یقینی بنانے، سرحدی حد بندی میں پیش رفت کرنے اور سرحد پار تعاون کے جاری عمل کو برقرار رکھنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘

سرحدی تنازعے پر خصوصی نمائندوں (ایس آرز) کے درمیان مذاکرات کے 25ویں دور کے بعد جاری ہونے والے چینی وزارت خارجہ کے بیان میں بھی سرحدی حد بندی کے حوالے سے پیش رفت کو نمایاں کیا گیا۔

بیان کے مطابق دونوں ممالک نے ’سرحدی حد بندی کے مذاکرات کو آگے بڑھانے، سرحدی نظم و نسق اور نگرانی کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی ڈھانچوں کو بہتر بنانے اور سرحد پار تعاون کے فروغ‘ پر تفصیلی گفتگو کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم کسی فریق نے یہ وضاحت نہیں کی کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے کن حصوں کی ممکنہ حد بندی پر غور کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال خصوصی نمائندوں کی بات چیت میں دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ ایل اے سی کے بعض علاقوں میں سرحدی حد بندی کے لیے ’ابتدائی اور فوری نتائج‘ حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔

چینی بیان میں وانگ یی کے حوالے سے کہا گیا ’چین اور انڈیا کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، سرحدی مسئلے کو دوطرفہ تعلقات میں مناسب مقام دینا چاہیے اور آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔‘

اطلاعات کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ آئندہ ماہ دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

انڈین میڈیا کے مطابق چینی حکومت کے اہلکاروں کی ایک پیشگی ٹیم ان کے دورے کی تیاری کے لیے پہلے ہی انڈیا پہنچ چکی ہے۔

یہ شی جن پنگ کا سات برس بعد انڈیا کا پہلا دورہ ہوگا۔ شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جون 2020 میں لداخ میں ہونے والے فوجی تعطل کے بعد یہ ان کا انڈیا کا پہلا دورہ ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا