تاجکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے نے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے چینی شہریوں اور کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں کو جلد از جلد چھوڑ دیں اور ان علاقوں کے سفر سے گریز کریں۔
سفارت خانے کے بیان کے مطابق تاجکستان۔افغانستان سرحد پر سکیورٹی صورتِ حال بگڑتی اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
حالیہ واقعے میں چار مسلح افغان افراد غیر قانونی طور پر افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے، جس کے دوران سرحدی علاقے میں فائرنگ بھی ہوئی۔
چینی نیوز ایجنسی گلوبل ٹائمز کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر چینی شہری علاقے کی صورت حال پر گہری نظر رکھیں، حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنائیں اور منظم اور بروقت طریقے سے سرحدی علاقوں سے انخلا کریں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغانستان اور تاجکستان کے درمیان ایک طویل اور پہاڑی سرحد ہے جہاں تاریخی طور پر تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
حالیہ جھڑپوں، ایک دوسرے پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سفارتی رابطے محدود ہیں۔
تاجکستان 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سرحد پار سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔