پاکستان بھر میں جاری مون سون بارشوں سے اموات کی تعداد 141 ہو گئی ہے اور چترال کے مختلف علاقوں میں گلیشیئرز پھٹنے اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں سیلابی صورت حال کا سامنا ہے، جہاں سڑکوں اور پلوں کی تباہی کے ساتھ بعض مقامات پر گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
لوئر چترال کے علاقے بروز میں سیلاب سے ایک پل تباہ ہوگیا جبکہ چترال روڈ پر بھی ٹریفک متاثر ہوئی، جسے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اب بحال کر دیا گیا ہے۔
قراقرم ہائی وے بھی یاشوکل داس کے مقام پر بھاری ملبہ گرنے کے باعث بند ہے۔
ادھر گلگت بلتستان کے علاقے غذر میں حکام کے مطابق مایون نالے میں سیلاب کے باعث دریائے اشکومن کا بہاؤ رکنے سے ہاسس کے مقام پر ایک مصنوعی جھیل بن گئی، جس کے باعث آٹھ مکانات مکمل زیر آب آگئے اور چھ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ گھروں کے علاوہ ایک مسجد اور سکول بھی زیر آب آئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح مایون کے علاقے میں بھی زمینوں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بدھ کو جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے متعلق مختلف حادثات میں 5 افراد جان سے گئے جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 26 جون سے اب تک مون سون بارشوں میں اموات کی تعداد 141 ہو گئی ہے جبکہ 434 افراد زخمی بھی ہوئے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 1,164 مکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ 25.43 کلومیٹر سڑکیں اور 37 پل متاثر ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں، اچانک سیلاب اور شہری سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔
اسی سلسلے میں شہریوں کو ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔