شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منگل سے شروع ہو رہا ہے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔
شہباز شریف 2026-27 کے لیے تنظیم کے سربراہ اجلاس کی صدارت بھی سنبھالیں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چین، روس اور چار وسطی ایشیائی ریاستوں نے ایک سکیورٹی فورم کے طور پر قائم کی تھی۔ گذشتہ 25 برسوں میں اس کا حجم اور اثر و رسوخ تو بڑھا ہے، تاہم اس کے اہداف اور پروگرام اب بھی کسی حد تک غیر واضح ہیں اور عالمی سطح پر اس کی شناخت محدود ہے۔
اب اس تنظیم میں 10 ممالک شامل ہیں: روس، چین، انڈیا، ایران، پاکستان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان۔ اس کے علاوہ کئی دیگر ممالک ’ڈائیلاگ پارٹنر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بشکیک پہنچنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں خطے میں امن کے لیے تحمل اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تازہ تبادلے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سمیت تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے رہنما وسطی ایشیائی ملک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے موقع پر ہونے والی متعدد دو طرفہ ملاقاتوں میں پوتن نے شی جن پنگ اور نریندر مودی سے الگ الگ ملاقات کیں۔
پوتن نے شی جن پنگ سے کہا کہ ماسکو چین کے ساتھ بغیر ویزا سفر کے نظام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ روس کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حالیہ برسوں میں بیجنگ نے تنظیم کے دائرہ کار اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اور ترقیاتی و مالی معاونت کے وعدے کیے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس تنظیم نے ’علاقائی تعاون کے لیے ایک نئی راہ کامیابی سے تلاش کی ہے۔‘ بیجنگ طویل عرصے سے روس کی حمایت کے ساتھ ایک متبادل عالمی نظام کے تصور کو فروغ دیتا رہا ہے۔
ایس سی او کے بہت سے رکن ممالک کے لیے یہ اجلاس اس بات کے اظہار کا موقع ہے کہ مغرب کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود وہ عالمی سطح پر مضبوط روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بشکیک میں سخت سکیورٹی انتظامات
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اجلاس کے دوران سکیورٹی اقدامات کے تحت دارالحکومت بشکیک کے بڑے شاپنگ مالز، بازار اور دیگر مقامات بند کر دیے گئے، جبکہ مناس ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی تجارتی پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔
کرغز صدر صدر جباروف کے ترجمان عسکت الاگوزوف نے کہا ہے کہ ’مرکزی بشکیک میں ٹریفک کی آمد و رفت پر وقفے وقفے سے پابندیاں عائد رہیں گی‘ اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شہر چھوڑ دیں۔
نئے تعلیمی سال کے آغاز کو 15 ستمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے منگل کے روز بشکیک میں سرکاری شعبے اور سرکاری ملازمین کے لیے عام تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے۔