بشکیک: شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، امریکہ ایران کشیدگی میں تحمل پر زور

شہباز شریف تین روزہ دورے پر پیر کو بشکیک پہنچے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ 2026-27 کے لیے تنظیم کے سربراہ اجلاس کی صدارت بھی سنبھالیں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 31 اگست 2026 کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کر رہے ہیں (ارنا)

وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں خطے میں امن کے لیے تحمل اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تازہ تبادلے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کی شب امریکی فورسز نے ایران کے لارک جزیرے پر دو راکٹ لانچر تباہ کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر یہ پہلا معلوم امریکی حملہ تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے جواباً اردن میں دو امریکی اڈوں پر حملہ کیا۔

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کے اہم توانائی مرکز خارک جزیرے پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اس دعوے کو مسترد کر دیا جبکہ خارک جزیرے پر حملے کی تصدیق کرنے والی کوئی دوسری اطلاع سامنے نہیں آئی۔

شہباز شریف تین روزہ دورے پر پیر کو بشکیک پہنچے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ 2026-27 کے لیے تنظیم کے سربراہ اجلاس کی صدارت بھی سنبھالیں گے۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے جون میں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور اسے خطے میں دیرپا امن کا ’واحد قابل عمل راستہ‘ قرار دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور ایرانی دارالحکومت تہران کے حالیہ دورے سمیت پاکستانی فوجی قیادت کی ’تعمیری سفارتی سرگرمیاں‘ اس سلسلے میں امید افزا ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے درمیان صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر قائم دیرینہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ’امت مسلمہ میں اتحاد‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد نے اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات کی میزبانی کی، بعد ازاں امن تجاویز کا تبادلہ ہوا اور جون میں پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتا طے پایا، جو چند ہفتوں بعد ختم ہو گیا۔

پاکستان مسلسل امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے سفارتی حل پر زور دیتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے براہ راست اور بالواسطہ سفارتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا