بلوچستان اسمبلی نے پیر کو صوبے میں تیزاب سے حملوں کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنانے کے سلسلے میں موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر نئی ترامیم شامل کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
قرارداد بلوچستان اسمبلی میں خواتین اراکین اسمبلی (وویمن پارلیمانی کاکس بلوچستان) پر مشتمل گروپ نے پیش کی۔
قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے شاہدہ رؤف نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب سے حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ تیزاب سے حملہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر سنگین حملہ ہے۔ یہ واقعہ ایک فرد پر نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس، تحفظ اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین حملہ ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب سے حملوں جیسے سنگین جرائم کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہے ہیں، تاہم اس نوعیت کے جرائم کی مؤثر روک تھام اور ملزمان کو قرارِ واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر کوئی جامع، مؤثر اور مخصوص قانون موجود نہیں۔
یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ایسے جرائم سے متاثرہ فرد کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور نجی زندگی پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کے ازالے کے لیے قانون سازی انتہائی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قرارداد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ فوری طور پر تیزاب سے حملوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم کرائے یا تیزاب سے حملوں سے متعلق ایک جامع، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نیا قانون بنایا جائے، جس میں تیزاب سے حملے کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزا، متاثرین کی فوری اور مؤثر بحالی، جس میں مفت اور معیاری طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی اور مناسب مالی امداد شامل ہو۔
قرارداد میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ تیزاب کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت ضابطۂ کار اور نگرانی کا نظام بھی واضح کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد باوقار انداز میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اور وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان کے باقی صوبوں میں تیزاب سے حملوں سے متعلق قوانین موجود ہیں، لیکن بلوچستان میں اس طرح کا مؤثر قانون موجود نہیں۔
صوبائی وزرا نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت بہت جلد تیزاب سے حملوں کے حوالے سے قانون سازی کرے گی۔
ایوان میں بحث و مباحثے کے بعد جب ڈپٹی سپیکر نے قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی تو ایوان نے اکثریتِ رائے سے قرارداد کی منظوری دے دی۔
گذشتہ ماہ سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک شخص نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا تھا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر ماہ نور کا چہرہ شدید متاثر ہوا تھا۔
صوبائی حکومت نے ڈاکٹر ماہ نور کو علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیا ہے، جہاں ان کا تاحال علاج جاری ہے۔