کیا آپ جانتے ہیں، لاہور میں برٹش پری ڈی روم (The British Prix de Rome) جیسے وقیع وظیفے سے متمتع ہونے والے آرٹسٹ گِلبرٹ لیڈورڈ (1888–1960) کا شاہکار مجسمہ موجود ہے؟
برٹش پری ڈی روم سے انعام یافتہ پہلے آرٹسٹ گِلبرٹ لیڈورڈ کا مجسمہ لاہور کے مال روڈ کی زینت ہے۔ یہ مجسمہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور سنسکرت کے عالمی شہرت یافتہ عالم، الفرڈ کوپر وولنر (1936- 1878) کا ہے۔
ٹرینیٹی کالج، آکسفرڈ سے ’سنسکرت اور پالی‘ میں ایم اے کرنے والے (1902) جواں سال الفریڈ وولنر، محض پچیس برس کی عمر میں لاہور پہنچے اور اورینٹل کالج کے پرنسپل اور پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار کے عہدے سنھبال لیے۔
یہ مئی 1903 کا واقعہ ہے۔ وولنر کی لاہور میں تعیناتی میں علامہ اقبال کے استاد ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا اہم کردار تھا۔ آرنلڈ، جواں سال وولنر کی تحریروں کو شوق سے پڑھتے اور ان کی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
وولنر تا دم مرگ (جنوری 1936) ہندوستان میں رہے اور یہیں پیوند خاک ہوئے۔ ان کی قبر جیل روڈ کے گورا قبرستان میں ہے۔ چھ کتابوں اور لاتعداد علمی مقالات لکھنے والے وولنر کے ناگہانی انتقال کے بعد، پنجاب یونیورسٹی نے ان کی یاد میں کالج روڈ، یونیورسٹی ہال اور منروا کلب، تینوں کا نام بدل کر وولنر سے منسوب کر دیا۔ یونیورسٹی کے اولین دارالاقامے کا نام پہلے سے وولنر ہاسٹل رکھا گیا تھا۔
ساتھ ہی ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ یونیورسٹی کے احاطے میں وولنر کا نیم تنہ (Bust) نصب کیا جائے گا (وولنر کا یہ نیم تنہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی زینت ہے)۔ اس مَد میں یونیورسٹی نے اساتذہ کی معاونت سے ہزار روپیہ خرچ کرنے کی تجویز پیش کی۔ وولنر کی وفا شعار اور عالم فاضل بیوی، مَیری ایمیلی بلینڈ (مسز وولنر)، جو ستائس سال وولنر کے ہمراہ لاہور میں رہی، اس تجویز پر راضی نہ ہوئی۔ مَیری کا اصرار تھا، وولنر کا مجسمہ اس کے علمی و انتظامی کارناموں کے شایان شان ہونا چاہیے۔
یونیورسٹی کی طرف سے خاموشی اختیار کیے جانے کے بعد مَیری نے ذاتی اخراجات پر، وولنر کا مجسمہ بنوانے کا ارادہ کیا۔ مَیری کا تعلق معروف رومانوی انگریزی مصور، تھامس لارنس کے خاندان سے تھا۔ وہ فنون لطیفہ کی باریکیوں کو خوب سمجھتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے رائل کالج آف آرٹس میں مجسمہ سازی کے پروفیسر، گِلبرٹ لیڈورڈ سے رابطہ کیا۔ گِلبرٹ کا شمار اس وقت کے اہم مغربی مجسمہ سازوں میں ہوتا تھا۔
1888 میں پیدا ہونے والے گِلبرٹ لیڈورڈ، وولنر سے دس سال چھوٹے تھے۔ ان کا تعلق یلسی سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گولڈ سمتھس کالج سے حاصل کی اور 1905 میں رائل کالج آف آرٹ (RCA) سے منسلک ہوئے۔ اس ادارے میں انہیں ایڈورڈ لانتیری کی نگرانی میں مٹی سے مجسمے بنانے کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ 1910 میں گِلبرٹ رائل اکیڈمی (RA) کے سکول سے وابستہ ہو گئے۔ 1913 میں انہیں بہترین کارکردگی کی بنیاد مجسمہ سازی کے شعبے کا اولین روم سکالرشپ ملا۔
اس وظیفے کی بنیاد پر انہوں نے پانچ ماہ اطالیہ میں گزارے۔ پہلی عالمی جنگ شروع ہونے پر وہ فرانس کے راستے برطانیہ واپس آ گئے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے لاتعداد خاکے (سکیچ) بھی بنائے، جو آج بھی رائل اکیڈمی کے ریکارڈز میں محفوظ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پہلی عالمی جنگ کے ختم ہونے کے بعد انہیں کئی ’جنگی یادگاریں‘ (وار میموریلز) بنانے کے اہم منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ان میں ایبرگیوینی اور ہیروگیٹ (1921)، بلیک پول (1923) اور لندن کے ہارس گارڈز پریڈ (1926) کی یادگاریں شامل تھیں۔ ہارس گارڈز پریڈ کی یادگار پر بہترین کام کرنے کے صلے میں انہیں 1927 میں رائل سوسائٹی آف برٹش سکلپٹرز (RBS) کا تمغہ دیا گیا، جو لندن میں عوام کے سامنے پیش کیے گئے کسی بھی برطانوی مجسمہ ساز کے بہترین کام پر عطا کیا جاتا تھا۔
1927 سے 1929 تک وہ رائل کالج آف آرٹ میں مجسمہ سازی کے پروفیسر رہے۔ اس دوران انہوں نے براہِ راست پتھر تراش کر مجسمے بنانے (سنگ تراشی) کے فن میں بھی دل چسپی لی۔ اس کا عملی ثبوت ان کے رومی پتھر کے مجسمے ’کیریاٹڈ فگرز‘ اور ’ریکلائننگ فگر ارتھ ریسٹس‘ ہیں، جو رائل اکیڈمی کی نمائشوں میں پیش کیے گئے۔
1934 میں انہوں نے ’سکلپچرڈ میموریلز اینڈ ہیڈ سٹونز‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کا مقصد یادگاروں اور قبروں کے کتبوں کے بہتر ڈیزائن کو فروغ دینا اور مقامی پتھروں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
1936 سے 1938 کے درمیان انہوں نے لندن کی ایڈیلفی کی عمارت کے ایک گوشے کے لیے ایک محیط برہنہ مجسمہ ’انسپیریشن‘ تیار کیا۔ اس دوران انہوں نے چیلسی کے سلوین سکوائر میں واقع ’وینس فاؤنٹین‘ بھی بنایا، جس پر 1949 سے 1953 تک کام ہوا۔ ایڈیلفی کی عمارت پر کام کرنے کے دوران ہی انہوں نے وولنر کا مجسمہ بنایا۔ مجسمے کے لیے مَیری (مسز وولنر) نے ان سے براہ راست ملاقات کے علاوہ لاہور کے نیڈوز ہوٹل کے کمرہ نمبر 25 سے خط و کتابت کی۔ افسوس چند خطوط کے علاوہ (جو پنجاب یونیورسٹی آرکائیوز میں محفوظ ہیں)، یہ قیمتی اور تاریخی اوراق ضائع ہو گئے۔
لیڈورڈ کا آخری بڑا فن پارہ پورٹلینڈ پتھر سے بنا ہوا ایک طویل منقش پٹی نما مجسمہ ’ویژن اینڈ امیجینیشن‘ تھا، جو ان کی وفات کے بعد لندن کے اولڈ براڈ سٹریٹ میں بارکلیز بینک کی عمارت پر نصب کیا گیا۔ بعد میں جب وہ عمارت گرائی گئی تو اس فن پارے کو محفوظ کر لیا گیا۔
وہ 1921 سے رائل سوسائٹی آف برٹش سکلپٹرز کے رکن رہے اور 1954 سے 1956 تک اس کے صدر بھی بنائے گئے۔ 1932 میں انہیں ایسوسی ایٹ رائل اکیڈمیشن اور 1937 میں مکمل رائل اکیڈمیشن منتخب کیا گیا۔ 1956 میں انہیں او بی ای (Order of the British Empire) کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ کینسنگٹن میں گزارا اور 21 جون 1960 کو وہیں پیوند خاک ہوئے۔ لیڈورڈ کی غیر مطبوعہ خودنوشت، جو 1953میں لکھی گئی تھی، آج بھی ہنری مور انسٹی ٹیوٹ میں محفوظ ہے۔
اے سی وولنر کا مجسمہ جنوری 1937 میں مکمل ہوا لیکن اس کے نصب ہونے کے عمل میں ایک سال گزر گیا۔ گِلبرٹ نے وولنر کے دو مجسمے تیار کیے تھے، جن میں سے ایک آرٹ یو کے، کی گیلری میں محفوظ ہے۔
یکم مارچ 1937 کے روزنامہ ’انقلاب‘ میں لاہور میں مجسمہ کی نقاب کشائی کی ایک تصویر موجود ہے۔ مجسمے کی نقاب کشائی گورنر پنجاب سر ہربرٹ ایمرسن نے کی۔ مجسمے کی تنصیب 28 مئی 1938 کو ہوئی۔
آٹھ فٹ نو انچ قامت پر محیط اس مجسمے کو کانسی سے ڈھالا گیا ہے۔ وولنر کے چہرے پر شان بے نیازی نمایاں ہے۔ دنیا و مافیہا سے مستغنی یہ عالم تھا فی العلم معلوم ہوتا ہے۔
میری ایمیلی بلینڈ کا انتقال 1944 میں ہوا جب کہ گلبرٹ لیڈورڈ نے 1960 میں دارالمحن سے منہ موڑا ۔ آخری دنوں میں دونوں برطانیہ میں تھے۔ مَیری آرٹ کے پروگراموں میں شرکت کرتی اور جنگ کے سپاہیوں کو انگریزی و عربی ادب پڑھایا کرتی تھی۔ کیا خبر دونوں کی ملاقات میں یہ مجسمہ زیر بحث آتا رہا ہو۔
زندگی کے آخری دنوں میں مَیری نے ویدوں کے معروف عالم آچاریہ وشوْ بندھو کے نام اپنے خط میں (1943) میں بھی مجسمے کا ذکر کیا ہے اور اسے اپنی زندگی کا حاصل قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر ارسلان راٹھورجی سی یونیورسٹی لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔