آج شاید ہی کوئی واقف ہو کہ 1911 سے 1920 کے درمیان نورا رچرڈز لاہور کی علمی و ثقافتی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار تھیں۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی ابتدائی کلاسوں کا آغاز بھی یہیں ہوا، جس کی سند پر اردو / فارسی انداز میں ’مدرسہ طبابت لاہور‘ لکھا جاتا تھا۔