’گلوبل ساؤتھ‘ کی علامت مراکش کی فٹ بال ٹیم یہاں تک کیسے پہنچی؟

مراکش کی ٹیم نہ صرف افریقہ اور عرب دنیا کی امیدوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ عالمی جنوب کے لیے بھی خود اعتمادی، شناخت اور کامیابی کی نئی علامت بن چکی ہے۔

مراکش کی قومی فٹ بال ٹیم نے، جسے شمالی افریقہ کے اٹلس پہاڑی سلسلے میں پائے جانے والے شیر کے نام سے یعنی ’اٹلس لائنز‘ سے بھی جانا جاتا ہے، 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے پہلی افریقی اور عرب ٹیم بن کر تاریخ رقم کی تھی۔

اب رواں سال کے ٹورنامنٹ میں ٹیم اس بات کو ثابت کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے کہ اس کی کامیابی محض ایک غیر متوقع کارنامہ نہیں بلکہ ایک مستقل قوت کا ابھرنا ہے۔

’گلوبل ساؤتھ‘ یا عالمی جنوب دنیا ایک سیاسی، معاشی اور تاریخی اصطلاح ہے جو ان ممالک کے لیے استعمال ہوتی ہے جو عموماً ترقی پذیر، کم یا متوسط آمدنی والے، یا ماضی میں نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر رہے ہیں۔

یہ اصطلاح صرف جغرافیہ کی بنیاد پر نہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جنوبی نصف کرہ میں واقع ہیں لیکن انہیں گلوبل ساؤتھ میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح انڈیا، پاکستان اور مصر شمالی نصف کرہ میں ہونے کے باوجود گلوبل ساؤتھ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

چار سال قبل جب مراکش پہلی بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچا تو خوشیوں کی لہر صرف مراکش تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے عرب اور افریقی خطے میں پھیل گئی۔

اٹلس لائنز کو عرب دنیا، افریقہ اور نوآبادیاتی ماضی سے نکلنے والی اقوام کے ہیرو کے طور پر سراہا گیا۔

غزہ سٹی اور رام اللہ کے میدانوں میں بڑی سکرینوں پر مراکش کے میچ دکھائے گئے۔

بیروت میں گاڑیاں مراکش کے سرخ اور سبز پرچموں سے سجائی گئیں جبکہ الجزائر میں خوشی کے اظہار کے لیے گاڑیوں کے ہارن بجائے گئے۔

بغداد اور مسقط سمیت متعدد شہروں میں بھی جشن دیکھنے میں آیا۔

نائجیریا کے صدر نے کہا کہ مراکش نے ’پورے براعظم کو فخر کا احساس دلایا ہے۔‘

مراکش کے زیادہ تر کھلاڑی مسلمان ہیں، جس کے باعث انڈونیشیا سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک میں شائقین نے ان کے لیے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا۔

الجزیرہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مراکش نے عالمی جنوب کو ’یقین اور امید کی طاقت‘ دی ہے۔

مراکش ورلڈ کپ کی تاریخ میں یورپ اور جنوبی امریکہ سے باہر کی صرف تیسری ٹیم تھی جو آخری چار ٹیموں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

ٹیم کی کامیابی کے بعد یہ بحث بھی شروع ہوئی کہ اسے پہلی افریقی یا عرب ٹیم قرار دیا جائے۔ اس دوران مراکشی کھلاڑیوں نے اپنی فتوحات فلسطینی پرچم لہرا کر منائیں۔

2022 کی تاریخی کامیابی سے قبل مراکش صرف ایک مرتبہ، 1986 میں، ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں آگے بڑھ کر ناک آؤٹ مرحلے میں باہر ہو گیا تھا۔

مراکشی فٹ بال صحافی سعد مفکر کے مطابق مراکش میں اس وقت ایک جملہ بہت مشہور ہوا کہ ’پائلٹ سے کہو انجن بند نہ کرے کیونکہ ہم جلد واپس آرہے ہیں۔‘

اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مراکش کا سنہرا دور آنے والا ہے۔

اس سال مراکش فیفا عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے، جو اس کی تاریخ کی بلند ترین پوزیشن ہے۔

قومی ٹیم میں دنیا کے بڑے کلبوں کے، جن میں ریال میڈرڈ اور مانچسٹر یونائیٹڈ شامل ہیں، نمایاں کھلاڑی موجود ہیں۔

گذشتہ برس مراکش کی انڈر 20 ٹیم نے عالمی چیمپیئن شپ بھی جیتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فٹ بال ماہرین کا کہنا ہے کہ 2022 کی کامیابی کو کبھی معجزہ قرار دیا جاتا تھا لیکن اب اسے ایک نئی فٹ بال طاقت کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

توقعات مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہیں۔ دیگر کئی ممالک کی طرح مراکش میں فٹ بال سے وابستگی بھی نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے۔

بیسویں صدی کے پہلے نصف میں جب یہ ملک فرانس اور سپین کے زیرِ اثر تھا، فٹ بال نے کافی مقبولیت حاصل کی۔

حالیہ برسوں میں مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے نوجوان ٹیلنٹ کی تربیت کے لیے جدید فٹ بال اکیڈمیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔

سلا شہر میں واقع مرکزی اکیڈمی میں ہر برس چھ سال کی عمر سے منتخب کیے جانے والے سو سے زائد باصلاحیت نوجوانوں کو یہاں رہائش اور مکمل تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ نظام یورپ اور جنوبی امریکہ کے اعلیٰ نوجوان ترقیاتی پروگراموں سے مشابہت رکھتا ہے۔

موجودہ مراکشی ٹیم بیرون ملک پروان چڑھنے والے کئی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ 2022 کے ورلڈ کپ سکواڈ کے 26 میں سے 14 کھلاڑی مراکش سے باہر پیدا ہوئے تھے۔

ان میں ٹیم کے کپتان اور دنیا کے بہترین دفاعی کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے اشرف حکیمی بھی شامل ہیں، جو سپین میں پیدا ہوئے، ریال میڈرڈ کے نظام میں تربیت پائی اور بعد ازاں پیرس سینٹ جرمین کا حصہ بنے۔

2022 کے ورلڈ کپ سکواڈ کے صرف نو کھلاڑی اس سال کی ٹیم میں شامل ہیں۔ تاہم سب سے اہم نیا اضافہ ٹیم کے نئے کوچ محمد وہبی ہیں۔

بیلجیئم میں مراکشی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے وہبی نے گذشتہ موسم گرما میں مراکش کی انڈر 20 ٹیم کو عالمی اعزاز دلایا تھا۔

افریقی کپ آف نیشنز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد صرف تین ماہ قبل انہیں سینیئر قومی ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔

مبصرین کے مطابق مراکش کی ٹیم نہ صرف افریقہ اور عرب دنیا کی امیدوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ عالمی جنوب کے لیے بھی خود اعتمادی، شناخت اور کامیابی کی نئی علامت بن چکی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال