پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان اور مراکش مستقل دفاعی تعلقات کے لیے ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم کریں گے، جس سے فوجی تربیت سمیت مستقبل میں دفاعی تعاون کی راہ ہموار ہوگی۔
خواجہ آصف ان دنوں مراکش میں ہیں جہاں وہ 14 جنوری تک رہیں گے۔
وزیر دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران مراکش کے وزیر مملکت برائے قومی دفاعی انتظامیہ عبد اللطیف لوداعی سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گذشتہ سال انڈیا کے ساتھ مختصر تنازعے میں پاکستان کی کارکردگی کے بعد کئی مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
خواجہ آصف کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق، اس دورے کے دوران پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا: ’اس معاہدے کے تحت مستقل دفاعی روابط کے لیے ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا جائے گا۔‘
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’یہ ایم او یو دفاع اور سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں مستقبل کے تعاون کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جن میں فوجی تربیت، تجربات کا تبادلہ، صلاحیت سازی اور دیگر مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور مراکش کے درمیان باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے وفود کی سطح پر مذاکرات کی بھی قیادت کریں گے۔
پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں، جنہیں مضبوط سفارتی، دفاعی اور اقتصادی روابط کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی دوروں اور دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے مزید تقویت حاصل ہوتی رہی ہے۔
گذشتہ برس اپریل میں پاکستان اور مراکش کی افواج نے فوجیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری اور دفاعی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی مشترکہ دوطرفہ فوجی مشقوں کے تیسرے ایڈیشن کا آغاز کیا تھا۔
نومبر 2024 میں مراکش کی فضائیہ کے انسپکٹر میجر جنرل محمد گدیح نے پاکستان کے چیف آف ایئر سٹاف ایئر مارشل ظہیر احمد بابر سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے ایرو سپیس کے شعبے میں پاکستان ایئر فورس کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔