پاکستان اور انڈونیشیا لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کے دفاعی معاہدے کے قریب: رپورٹ

جکارتہ اور اسلام آباد کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کی دفاعی صنعت کئی ملکوں کے ساتھ لڑاکا طیاروں اور اسلحے کی خرید و فروخت کے مذاکرات میں تیزی لا رہی ہے۔

کراچی میں 16 نومبر 2022 کو عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کے دوران جے ایف 17 تھنڈر بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

انڈونیشیا کے وزیر دفاع  جعفری شمس الدین نے پیر کو اسلام آباد میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی جس میں لڑاکا طیاروں اور مسلح ڈرونز کی ممکنہ فروخت سمیت ایک بڑے دفاعی معاہدے پر بات چیت کی گئی۔

اس ملاقات سے متعلق معلومات رکھنے والے تین سکیورٹی حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ خریداری معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔

جکارتہ اور اسلام آباد کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کی دفاعی صنعت کئی ملکوں کے ساتھ لڑاکا طیاروں اور اسلحے کی خرید و فروخت کے مذاکرات میں تیزی لا رہی ہے، جن میں بنگلہ دیش، لیبیا اور سوڈان کے ساتھ جاری بات چیت بھی شامل ہے۔

پاکستان خطے میں ایک نمایاں دفاعی سپلائر کے طور پر اپنا کردار مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادھر انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے وزیر دفاع  جعفری شمس الدین اور پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

جکارتہ میں وزارت کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان عمومی دفاعی تعاون، سٹریٹجک ڈائیلاگ، دفاعی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور طویل المدتی باہمی مفاد کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ بات چیت کا مرکزی نکتہ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور ان مسلح ڈرونز کی ممکنہ فروخت تھی جو نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دیگر دو ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات خاصے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان میں 40 سے زائد جے ایف 17 طیاروں کی خریداری شامل ہے۔

ذرائع نے کہا کہ انڈونیشیا کو پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی دلچسپی ہے تاہم انہوں نے ان طیاروں کی ترسیل کے شیڈول یا معاہدے کی مدت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

انڈونیشیا فضائی بیڑے کو جدید بنانے کا عمل

ماہرین کے مطابق پاکستان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے ساتھ ساتھ ایئر ڈیفنس نظام، تربیتی پروگرام اور انڈونیشین ایئر فورس کے جونیئر، مڈ لیول اور سینیئر افسران کے لیے انجینئرنگ تربیت کی فراہمی پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔

ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے روئٹرز کو بتایا کہ انڈونیشیا سے متعلق ڈیل پر کام جاری ہے اور اس میں شامل طیاروں کی تعداد چالیس کے قریب ہے۔

انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو گذشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے جہاں انہوں نے دو طرفہ تعلقات، خاص طور پر دفاعی تعاون کو بڑھانے پر گفتگو کی۔

انڈونیشیا گذشتہ چند برسوں کے دوران اپنی ایئر فورس کی اپ گریڈیشن کے لیے بڑے پیمانے پر خریداری کر رہا ہے۔

اس میں 2022 میں 8.1 ارب ڈالر مالیت کے 42 فرانسیسی رفال طیاروں کا آرڈر اور گذشتہ سال ترکی سے 48 کان فائٹر جیٹس کی خریداری شامل ہے۔

جکارتہ چین کے جے 10 طیاروں کی خریداری پر بھی غور کر رہا ہے اور امریکی ایف 15 ای ایکس طیاروں کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے۔

فلیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

بعد ازاں انڈونیشیا کے وزیر دفاع  جعفری شمس الدین نے پیر کو ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال، اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں فریقین نے ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے، تربیت کے شعبے میں تعاون، اور دفاعی صنعت کے شعبے میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ ’پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ مضبوط اور پائیدار دفاعی تعلقات قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جو مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور سٹریٹجک مفادات کے اشتراک پر مبنی ہوں۔‘

پاکستان کی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی اہمیت

پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی میں دلچسپی میں گذشتہ سال انڈيا کے ساتھ مختصر جھڑپ کے دوران جے ایف 17 طیاروں کے استعمال کے بعد نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جے ایف 17 طیارے آذربائیجان کے ساتھ معاہدے اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پیکج کا حصہ بھی بنے ہیں۔

پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ایک دفاعی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور جے ایف 17 شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ڈھاکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔

روئٹرز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دو سے چار ارب ڈالر تک کے دفاعی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے جس میں سعودی قرضوں کو دفاعی سامان کی فراہمی میں تبدیل کرنے کا امکان شامل ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت