پاکستان فوج نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا کہ عراق نے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستان فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے اس بیان کے مطابق پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے سرکاری دورۂ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سٹاف پائلٹ محند غالب محمد راضی الاسدی سے ملاقات کی۔
بیان میں کہا گیا ’ملاقات کے دوران دوطرفہ عسکری تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں مشترکہ تربیت، صلاحیت سازی اور عملی تعاون کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔‘
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو سراہا، عالمی معیار کی تربیت سے استفادہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔‘
انہوں نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب حالیہ دنوں میں کئی ممالک نے پاکستان سے اس طیارے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور مشرقی لیبیا شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ روز ہی برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی فضائیہ کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان سوڈان کو ہتھیار اور جیٹ طیارے فراہم کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے کرنے کے حتمی مراحل میں ہے۔
چین کے تعاون سے بنے جے ایف 17 تھنڈر کو پاکستان نے پہلی مرتبہ 27 فروری، 2019 کو انڈیا کے خلاف میدان میں اتارا تھا اور پہلے ہی معرکے میں اس نے انڈین طیارہ مار گرایا تھا۔
ایک انجن پر مشتمل کثیر المقاصد جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ہلکا، ہر موسم میں، دن رات پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس، کامرہ اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر 1999 میں تیار کیا۔
بعد ازاں طیارے میں مزید بہتری لائی گئی اور 2006 میں دوبارہ تربیتی پرواز کے بعد مارچ 2007 میں پاکستان ایروناٹیکل کملیکس کامرہ نے دو طیارے پاکستان فضائیہ کے حوالے کیے۔
پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس جے ایف 17 طیارے کے فریم کی مشترکہ پیداوار میں 58 فیصد حصہ رکھتا ہے۔