پاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہتھیار اور طیارے بیچے گا: رپورٹ

روئٹرز کے مطابق ممکنہ معاہدے میں 10 قراقرم ایٹ لائٹ اٹیک طیارے، جاسوسی اور حملے کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت شامل ہے۔

پاکستان فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے 27 فروری 2020 کو کراچی میں منعقدہ ایئر شو کے دوران فضائی مظاہرہ پیش کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ روئٹرز)
 

پاکستانی فضائیہ کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور تین ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان سوڈان کو ہتھیار اور جیٹ طیارے فراہم کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے کرنے کے حتمی مراحل میں ہے۔ 

معاملے سے باخبر تین میں سے دو ذرائع نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی، بتایا کہ پاکستان کے ساتھ سوڈان کے اس ممکنہ معاہدے میں 10 قراقرم ایٹ لائٹ اٹیک طیارے، جاسوسی اور حملے کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فضائیہ کے معاملات سے باخبر رہنے والے ریٹائرڈ پاکستانی ایئر مارشل عامر مسعود نے کہا کہ یہ ایک ’طے شدہ سودا‘ ہے۔

انہوں نے تعداد یا فراہمی کے شیڈول کے بارے میں بتائے بغیر مزید کہا کہ قراقرم ایٹ جیٹ طیاروں کے علاوہ اس میں سپر مشاق تربیتی طیارے، اور شاید کچھ انتہائی مطلوب جے ایف 17 لڑاکا طیارے شامل ہیں جو چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے اور پاکستان میں بنائے جاتے ہیں۔

پاکستان کی فوج اور اس کی وزارت دفاع نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

سوڈان کی فوج کے ترجمان نے بھی تبصرے کی درخواست والے پیغام کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

پاکستان کی طرف سے مدد، خاص طور پر ڈرونز اور جیٹ طیارے، سوڈان کی فوج کو وہ فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو اسے ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) کے ساتھ جنگ ​​کے آغاز میں حاصل تھی، جس نے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس سے فوج کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

سوڈان کی فوج، آر ایس ایف پر متحدہ عرب امارات سے رسد لینے کا الزام لگاتی ہے، جس نے ہتھیاروں کی فراہمی کی تردید کی ہے۔

سوڈان میں فوج کے دو گروپوں کے درمیان ڈھائی سال سے زائد عرصے جاری لڑائی نے ملک میں دنیا کے بدترین انسانی بحران کو ہوا دی ہے۔ اس بحران میں لاتعداد غیر ملکی مفادات شامل ہو چکے ہیں، اور سونا پیدا کرنے والے بحیرہ احمر کے اس اہم ملک کے ٹکڑے ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان