پاکستان کی جانب سے گذشتہ مئی میں مختصر لڑائی کے دوران انڈیا کے متعدد جنگی طیارے گرائے جانے کے بعد پاکستان کے زیر استعمال جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا عالمی سطح پر بہت ذکر ہے۔
کئی ممالک نے پاکستان سے اس طیارے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور مشرقی لیبیا شامل ہیں۔
چین کے تعاون سے بنے جے ایف 17 تھنڈر کو پاکستان نے پہلی مرتبہ 27 فروری، 2019 کو انڈیا کے خلاف میدان میں اتارا تھا اور پہلے ہی معرکے میں اس نے انڈین طیارہ مار گرایا تھا۔
ایک انجن پر مشتمل کثیر المقاصد جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ہلکا، ہر موسم میں، دن رات پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس، کامرہ اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر 1999 میں تیار کیا۔
امریکہ کا ایف 16 طیارے دینے سے انکار جے ایف 17 تھنڈر کی تیاری کا موجب بنا تھا۔ 2003 میں اس طیارے کی پہلی پرواز چین میں کی گئی۔
بعد ازاں طیارے میں مزید بہتری لائی گئی اور 2006 میں دوبارہ تربیتی پرواز کے بعد مارچ 2007 میں پاکستان ایروناٹیکل کملیکس کامرہ نے دو طیارے پاکستان فضائیہ کے حوالے کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس JF-17 کے فریم کی مشترکہ پیداوار میں 58 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
جے ایف 17 تھنڈر کی خصوصیات کیا ہیں؟
پاکستان میں تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر کم وزن کے ’ہر فن مولا‘ طیارے ہیں، جو آواز سے دو گنا زیادہ رفتار سے 55 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
طیارے کی لمبائی 14.9 میٹر، 4.77 میٹرجبکہ وزن 6411 کلوگرام ہے۔ اس طیارے میں دو عدد کمپیوٹر نصب ہیں جو اس کے ریڈار یا زمین سے موصول ہونے والی معلومات کو ہواباز تک پہنچاتے ہیں۔
طیارے میں دو عدد میزائل سے خبردار کرنے والے یونٹ آگے کی طرف لگے ہیں اور ایک پیچھے کی طرف۔ یہ 60 کلومیٹر دور تک کسی بھی آنے والے میزائل کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
اس میں ایک 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی ہوتی ہے۔ یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل لے کر جا سکتا ہے۔
جے ایف-17 سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ جی پی ایس کی رہنمائی استعمال کرنے والے بم مثلا ایف ٹی، ایل ٹی اور ایل ایس بم بھی لے جاسکتا ہے۔
یہ طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔