پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی کے ایک سینئر رکن نے امام الحق کی پنڈلی کی انجری کی شدت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امام گذشتہ اتوار لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے تھے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چار رکنی قومی سلیکشن پینل کے رکن عاقب جاوید نے منگل کی شب نجی نیوز چینل جیو ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
عاقب جاوید نے سوال اٹھایا، ’یہ کیسے ممکن ہے کہ پٹھے میں کھنچاؤ آنے کے بعد آپ دونوں اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ اتر سکیں؟‘
انہوں نے کہا کہ انجریز ہوتی رہتی ہیں اور ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب کھلاڑیوں نے حتیٰ کہ پلاسٹر کے ساتھ بھی میدان میں اتر کر اپنی ٹیم کے لیے کوشش کی۔
ان کے بقول،’یہ صورت حال مختلف ہے۔ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے کارروائی کی جائے گی۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن یہاں کریں
سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت دیگر افراد نے بھی پاکستانی میڈیا میں امام کی انجری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ امام کو لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران انجری ہوئی تھی، جس کے بعد وہ میچ کے باقی حصے میں نہیں کھیلے۔
تاہم محمد وسیم کی تنقید کے بعد امام اتوار کو چوتھے روز کے کھیل سے قبل میدان میں نظر آئے۔ وہ ہلکی دوڑ کے دوران واضح طور پر لنگڑا رہے تھے اور شیڈو بیٹنگ کرتے ہوئے ان کی بائیں پنڈلی پر بھاری پٹی بندھی ہوئی تھی۔
7 کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا دفاع
امام الحق ان سات کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کے ساتھ انگلینڈ سے پاکستان واپس بلا لیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ہیڈنگلے اور لارڈز میں پاکستان کی مسلسل دو شکستوں کے بعد کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے نو ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ کے لیے ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پاکستانی سلیکٹرز نے آخری ٹیسٹ کے لیے پانچ ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کیا ہے جو ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے، جبکہ اوپنرز صائم ایوب اور عبداللہ فضل بھی شامل ہیں، جن کا مجموعی ٹیسٹ تجربہ صرف 10 میچوں کا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں ٹیم سلیکشن پر اختلافات
لارڈز ٹیسٹ کے لیے پلیئنگ الیون کے معاملے پر ٹیم مینجمنٹ اور عاقب جاوید کے درمیان شدید اختلافات تھے، جس کے نتیجے میں دورہ انگلینڈ کے دوران ہی ٹیم میں تبدیلیاں کی گئیں۔
عاقب جاوید چاہتے تھے کہ ہیڈ کوچ اور کپتان بابر اعظم لارڈز ٹیسٹ میں فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر، تیز گیند باز عبید شاہ اور وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری کو ٹیم میں شامل کریں اور محمد رضوان کو باہر بٹھایا جائے۔
تاہم ٹور مینجمنٹ نے صرف سلمان علی آغا کو ٹیم سے ڈراپ کیا، جو بابر اعظم کی انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔
عاقب جاوید نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا،’ہم صرف انتظار نہیں کر سکتے۔ میں نے پہلے ٹیسٹ کے بعد کپتان اور کوچ دونوں سے بات کی تھی اور انہیں عبید کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی، جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کراتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سلمان علی آغا کو آرام دینا درست فیصلہ تھا، جبکہ غازی غوری دورے پر موجود تھے اور انہیں رضوان کی جگہ لارڈز ٹیسٹ میں کھیلنا چاہیے تھا۔‘