’جناح کیپ عام آدمی پہن لے تو مذاق بن جاتا ہے‘

ملتان میں جناح کیپ بنانے والے عباس علی کہتے ہیں کہ اب اس ٹوپی کی اہمیت 14 اگست اور 25 دسمبر کی تقریبات تک محدود ہو چکی ہے۔

جس دن میری سانس نکل جائے گی اس دن یہ کام بھی ختم ہو جائے گا: عباس علی

’جناح کیپ قائد اعظم کی نشانی ہے جو وہ ہمیں دے گئے ہیں۔ جناح کیپ ایک کیلیبر کی چیز ہے اس کو عام آدمی پہن لے تو مذاق بن جائے گا، یہ تو قائد کے لیے ہے۔ میرے آباؤ اجداد نے محمود علی بنگالی، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری تک کو جناح کیپ پہنائی ہے اور اب میری آخری خواہش ہے کہ میں جناح کیپ وزیراعظم عمران خان کو پہناؤں۔‘

یہ الفاظ ہیں ملتان کے رہائشی عباس علی کے، جو چوک گھنٹہ گھر میں ایک چھوٹی سی دکان میں اپنے بزرگوں کے کاروبار کو سنبھالے بیٹھے ہیں۔ وہ جناح کیپ بنانے کا کام کرتے ہیں۔

عباس کے مطابق ’میرے باپ دادا کے بعد میں اور میرے ایک چچا ٹوپیاں بناتے ہیں اور ملتان میں کوئی نہیں جو یہ کام کرتا ہو۔ ہماری پہچان کی وجہ بھی جناح کیپ ہیں۔‘ جناح کیپ کی تیاری میں کراکلی کھال کا استعمال ہوتا ہے جس کی منڈی پشاور میں ہے۔

عباس نے بتایا ’ہم وہاں سے سامان لے کر آتے ہیں اور یہاں ملتان میں جناح کیپ تیار کرتے ہیں۔‘ عباس کے مطابق ان کے والد جناح کیپ تیار کر کے اسے علما کرام کے اجتماعات پر فروخت کرنے جاتے تھے اور وہ وہاں پر پھیری لگاتے تھے، اب جناح کیپ سے 14 اگست، 25 دسمبر کی مختلف تقریبات میں سیاسی قائدین کی تاج پوشی کی جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگرچہ مختلف پروگراموں میں وزیراعظم عمران خان کے سیاسی امور کے معاون خصوصی ملک عامر ڈوگر، سی پی او ملتان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جناح کیپ سے تاج پوشی کی اور اس سے ہمیں ایک چھوٹی سی شیلڈ اور ہم جیسے لوگوں کو سٹیج پر بیٹھا کر عزت تو دی جاتی ہے لیکن کبھی ایک روپیہ تک نہیں ملتا، ایسے پروگرامز میں جناح کیپ صرف ایک تحفے تک ہی محدود ہوتی ہے۔‘

عباس علی کے مطابق انہوں نے تو اپنے والد کے اس کام کو زندہ رکھا ہے لیکن ’ہمارے بچے اب اس کام کو پسند نہیں کرتے اور اس کی وجہ معاشی طور پر اس کا گراف کوئی نہیں ہے۔‘

جناح کیپ کی قیمت کی بات کی جائے تو ایک ٹوپی کی قیمت 700 سے لے کر ڈھائی ہزار تک ہوتی ہے اور یہ علما کرام، خطیب، نعت خواں اور کچھ وکلا پہنتے ہیں۔ ان کے مطابق ملتان میں ان کی آخری سانس تک یہ کام جاری رہے گا، ’جس دن میری سانس نکل جائے گی اس دن یہ کام بھی ختم ہو جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا