دہائیوں پرانا کتابوں کا اتوار بازار، بدستور لاہور کی رونق

سات دہائیوں سے قائم اس بازار نے کئی بدلتے حالات دیکھے، وقت بدلا، ذوق بھی بدلتا گیا، فٹ پاتھ کی حالت میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی آتی گئی، مگر انارکلی کے اس اتوار کتاب بازار کی رونق میں کوئی کمی نہیں آئی۔

زندہ دلانِ لاہور میں اتوار کی صبح کچھ مختلف ہوتی ہے۔ شہر کی سڑکوں پر جہاں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہوتا ہے، وہیں اسی لمحے، انارکلی  پاک ٹی ہاؤس کے عین سامنے فٹ پاتھ پر فجر کے بعد ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔

کتاب فروش زمین پر چادریں بچھاتے نظر آتے ہیں تو کہیں کتابوں کے ڈھیر ترتیب پا رہے ہوتے ہیں، کہیں ہاتھ سے لکھی قیمتیں سیدھی کی جا رہی ہیں اور اسی دوران چائے والا گرم چائے کی پیالیاں لا کر ان لوگوں کو پیش کرتا ہے، جن کا اس رونق میں اصل کردار ہے۔

سات دہائیوں سے قائم اس بازار نے کئی بدلتے حالات دیکھے، وقت بدلا، ذوق بھی بدلتا گیا، فٹ پاتھ کی حالت میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی آتی گئی، مگر انارکلی کے اس اتوار کتاب بازار کی رونق میں کوئی کمی نہیں آئی۔

چادروں پر پھیلی ہوئی کتابیں، کہیں پرانی تو کہیں پیکٹ میں بند نئی کتابیں اور لوگ جو ان کے درمیان آہستہ سے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جیسے ہر کتاب کے ساتھ ان کا ایک مکالمہ جاری ہو۔

یہ بازار پاک ٹی ہاؤس سے شروع ہو کر نیشنل کالج آف آرٹس کی آرٹ گیلری اور لاہور میوزیم کے سامنے واقع سروس روڈ کے آخری سرے تک پھیلا ہوا ہے۔ تقریباً 300 میٹر کے اس حصے پر ہر اتوار تقریبا 50 سے زائد سٹال لگتے ہیں۔

یہ بازار تاریخی، ادبی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھی گئی پرانی اور نایاب کتابوں کو محفوظ رکھنے والا ایک مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

یہاں سیاسی نظریات، کلاسک، ادب، مذہب، ناول، بچوں کی کتابیں، اور اعلیٰ تعلیمی نصاب، سب کچھ اردو اور انگریزی میں، نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے۔ یہاں سالوں سے آنے والے خریداروں کے مطابق بعض کتابیں ایسی بھی ہیں جو ملک کے کسی اور حصے میں آسانی سے نہیں ملتیں۔

اس بازار کی اصل تاریخ ان کتابوں سے زیادہ ان لوگوں کے پاس محفوظ ہے جو ہر اتوار یہاں آتے ہیں۔

شاہد صاحب گذشتہ 35 سالوں سے ہر اتوار اس بازار میں آ رہے ہیں۔ ان کی اپنی کتابوں کی دکان انارکلی میں واقع ہے، اور وہ اس اتوار بازار سے کتابیں خرید کر اپنی دکان پر فروخت کرتے ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق کتاب بینی سے تو پہلے ہی تھا، مگر یہاں کے کتاب فروشوں کے ساتھ ان کا  ایک دل کا رشتہ بھی قائم ہو گیا ہے۔

طارق سعید 1980 کی دہائی سے اس بازار میں ہر ہفتے چکر لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو دہائیوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہاں آتے ہیں تو محض کتابیں نہیں ملتیں، گفتگو بھی ہوتی ہے۔ کئی ایسی نایاب کتابیں یہاں مل جاتی ہیں جو کہیں اور دستیاب نہیں۔ میں نے خیبر پختونخوا اور سندھ سے لوگوں کو خاص طور پر اسی بازار کے لیے لاہور آتے دیکھا ہے۔‘

ڈیجیٹل دور میں، جہاں معلومات ایک کلک کی دوری پر ہے، اس بازار میں نوجوانوں کی بڑی تعداد حیران کن ہے۔ ہر سٹال پر تین چار نوجوانوں کا کتابیں کھنگالتے نظر آنا ایک عام منظر ہے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے محتشم نظامانی، جو تعلیم کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں، فلسفے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ دوستوں کے مشورے پر انہوں نے اس بازار کا رخ کیا، اور اب باقاعدگی سے یہاں آتے ہیں۔

یہ بازار لاہور کی روح اور اس کا اصل جوہر ہے۔

لاہور میں پلی بڑھی مریم صوفی اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ برسوں بعد اس بازار میں واپس آئی ہیں۔ ’ہم بچپن میں یہاں آ کر کتابیں لیتے تھے، ساتھ غلام رسول کے چنوں سے ناشتہ کرتے تھے۔ چھ سال بعد جب یہاں آئی تو لگا جیسے گھر واپس آ گئی ہوں۔‘

مرزا حسیب بیگ 77 برس کے ہیں اور گذشتہ 50 برسوں سے اسی بازار میں کتابیں فروخت کر رہے ہیں۔ ’پہلے کم لوگ ہوتے تھے، اب پچاس ساٹھ سٹال لگتے ہیں۔ میرے بعد میری تین نسلیں بھی اسی پیشے سے وابستہ ہو گئیں۔ ہم اس دور کے لوگ ہیں جب زمین پر کپڑا بچھا کر کتابیں لگائی جاتی تھیں، اب بازار وقت کے ساتھ ماڈرن (جدید) ہو گیا ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا