’قائداعظم کی کامیابی کے لیے لوگوں کی مارپٹائی کی‘: جناح کے محافظ

جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال کے رہائشی 109 سالہ غلام جعفر نے نو سال، چار ماہ اور سات دن یعنی قائداعظم کی وفات تک ان کے محافظ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

غلام جعفر 109 سال کے ہو چکے ہیں اور ان پاکستانیوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ہمراہ وقت گزارا ہو۔

جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال کے رہائشی غلام جعفر اپنے نام کے ساتھ ’سالار‘ بھی لگاتے ہیں کیونکہ یہی ان کی زندگی کا اثاثہ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ تقسیمِ ہند سے پہلے جن سالوں میں تحریکِ پاکستان زوروں پر تھی تو اس وقت وہ قائداعظم کے ’سالار‘ یعنی ان کے محافظ منتخب ہوئے تھے۔

بقول غلام جعفر: ’میں نو سال، چار ماہ اور سات دن یعنی قائداعظم کی وفات تک ان کے ساتھ رہا۔‘

محافظ ہونے کے ناطے قائداعظم کی کامیابیوں میں اپنا کردار بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’سالار نے قائد اعظم کو کامیاب کرنے کے لیے بے شمار لوگوں کی مار پٹائی کی اور کامیاب کیا۔‘

 

جعفر سالار کی قوت سماعت نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن جب وہ بولنا شروع کرتے ہیں تو بانی پاکستان کی شخصیت اور عوامی زندگی کے بارے میں ایک کے بعد دوسرا دلچسپ واقعہ سناتے چلے جاتے ہیں۔

1942 میں نئی دہلی میں قائد کے ایک جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہیں کچھ دیر پہلے جلسہ گاہ کے باہر ایک چائے خانے میں ہونے والی گفتگو کا پتہ چلا، جس کے دوران ایک شخص نے کہا: ’جب جناح ہی نہیں رہے گا تو آئے گا کون؟‘

اس گفتگو کو قائداعظم محمد علی جناح کی جان لینے کی ممکنہ سازش سمجھتے ہوئے غلام جعفر نے سٹیج کے اردگرد اپنے ساتھیوں کو پھیلا دیا۔

مکمل انٹرویو:

 

 

’قائداعظم تقریر کرنے لگے تو وہ مولوی جس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور اس پر چھری لگی ہوئی تھی، قائداعظم کو مارنے لپکا‘ تاہم بقول جعفر سالار انہوں نے آگے بڑھ کر اپنا ڈانڈ حملہ آور کے بازو پر مارا اور سازش کو ناکام بنایا۔

انہوں نے بتایا: ’مولوی گر گیا اور اس کے ساتھی اسے پکڑ کر لے گئے۔ اس کے بعد اس مولوی نے عوام کو کہنا شروع کر دیا کہ جناح مسلمان نہیں ہے، اسے ووٹ مت دینا۔‘

پاکستان کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہیں تو غلام جعفر کی آنکھوں میں وہ چمک رہتی ہے اور نہ آواز میں وہ جوش، جو قائداعظم کے ساتھ گزرے سالوں کے واقعات سناتے ہوئے واضح ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلام جعفر چل پھر نہیں سکتے اور وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں، جسے چلانے کے لیے ان کے بیٹے کا سہارا رہتا ہے۔ ان کے شب و روز اپنے کمرے میں ہی گزر جاتے ہیں۔

کمرے میں ایک شیلف اور دیوار تقسیم ہند سے پہلے اور بعد کی تصاویر اور یادداشتوں سے بھری ہوئی ہے۔

ان میں سب سے بڑی تصویر قائداعظم ہی کی ہے۔ اس تصویر کو دیکھتے ہوئے غلام جعفر کے چہرے کی اداسی ڈھکی چھپی نہیں رہتی۔

ان کا گلہ ہے کہ ان کی خدمات کے باوجود ان کے بیٹوں کو مستقل سرکاری نوکری کبھی نہ مل سکی اور سب کے سب بے روزگار ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور صدر سے اپیل کی کہ ان کے بچوں کو نوکریاں دی جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی