راولپنڈی کی قدیم تہذیب کا دھارا نالہ لئی بقابلہ انسان

1944 کے بعد سے نالہ لئی میں 25 ایسے سیلاب آ چکے ہیں جن میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سب سے تباہ کن سیلاب 23 جولائی 2001 میں آیا تھا جب اس کے آب گیر علاقے میں بادلوں کے پھٹنے سے620 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔

1890 کی اس تصویر میں ٹوپی رکھ کے ساتھ نالہ لئی بہہ رہا ہے جس کے پار دھوبی گھاٹ کی عمارت نظر آ رہی ہے (تصویر کو اے آئی سے رنگین بنایا گیا ہے، تصویر بشکریہ علی خان)

نالہ لئی کا پانی اس لیے آبادیوں میں داخل ہوتا ہے کیونکہ آبادیاں نالہ لئی میں داخل ہو چکی ہیں۔

یہ مسئلہ ہر سال صرف برسات کے دنوں میں ہی سامنے آتا ہے۔ جیسے ہی پانی اترتا ہے لوگ لئی کو بھول جاتے ہیں اور لئی لوگوں کو بھول جاتی ہے۔ نالہ لئی کی ویڈیوز چند گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہیں۔ پنجاب کے ایک شہر کا مسئلہ صوبوں کے درمیان بھی بیان بازی کی وجہ بن جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ پنجاب کی ترقی کے سارے دعوے ہوا ہو گئے ہوں۔

جو آج گندا نالہ ہے اور جس میں دونوں شہروں کے سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے کبھی یہ پانی شہر کی زندگی ہوا کرتا تھا۔ زندگی اس کے شفاف پانیوں سے ترتیب پاتی اور ہر لمحہ مسکراتی تھی۔  

مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایوانِ صدر سے لے کر درۂ مارگلہ جی ٹی روڈ تک سارا پانی اسی نالے سے نکاسی کرتا ہے۔ اس کا آب گیر علاقہ (Catchment Area) تقریباً235  مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے 69 فیصد اسلام آباد میں آتا ہے جبکہ باقی راولپنڈی میں آتا ہے۔ اس کی کل لمبائی 30 کلومیٹر ہے جس میں چھ نالے آ کر گرتے ہیں جن میں سے تین اسلام آباد کے ہیں۔

کٹاریاں پل سے یہ راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوتا ہے جہاں سے ہی یہ تباہی کی داستانیں رقم کرتا ہوا پورے راولپنڈی سے گزر کر جی ٹی روڈ پر دریائے سواں میں مل جاتا ہے۔ 1944 کے بعد سے نالہ لئی میں 25 ایسے سیلاب آ چکے ہیں جن میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سب سے تباہ کن سیلاب 23 جولائی 2001 میں آیا تھا جب اس کے آب گیر علاقے میں بادلوں کے پھٹنے سے620 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جو اب تک ایک ریکارڈ ہے۔ نالہ لئی صرف ایک نالہ نہیں یہ راولپنڈی شہر کی صدیوں پر پھیلی ہوئی پوری ایک تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔

پانی جو کبھی مقدس تھا

راولپنڈی کے بیچوں بیچ گزرتا نالہ لئی دریا تو کبھی نہیں رہا لیکن یہ راولپنڈی سے نکلتے ہی دو دریاؤں کورنگ اور سواں سے مل جاتا ہے۔ جی ٹی روڈ پر جس جگہ یہ ان دونوں دریاؤں سے ملتا ہے وہاں قدیم غاریں تھیں جن کے نیچے دریا میں انڈیا کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے 1928 میں کھدائیاں کیں تو انہیں پتھر کے پہلے دور کے ممکنہ طور پر لاکھوں سال پرانے اوزار ملے تھے۔ چندی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے بانی سربراہ ڈاکٹر بدھ پرکاش کے بقول ’نالہ لئی کے کناروں پر ہی 10,000 سال پہلے ملوہا نامی شہر آباد تھا جو دراوڑوں کے مرکزی قبیلے منڈا کا اہم دفاعی مرکز تھا یہاں عالی شان عمارات اور ایک بڑا قلعہ تھا جسے آریا قوم نے تباہ کر دیا۔

راج ترگنی کے مصنف پنڈت کلہان کے بقول چاند دیوتا کا پہلا مندر مارگلہ کی پہاڑیوں پر ہی بنا تھا۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ رام، سیتا اور لچھمن نے بن باس کے دن بھی سید پور میں گزارے تھے اور یہاں سے جو سات چشمے پھوٹتے ہیں ان کے نام بھی رام کنڈ، سیتا کنڈ اور لچھمن کنڈ پر ہیں۔ تقسیم سے پہلے ہندوؤں کا سالانہ مذہبی تہوار بھی سید پور میں منایا جاتا تھا جس میں ہزاروں یاتری شرکت کرتے تھے۔ ان چشموں کا مقدس پانی جس میں یاتری اشنان کر کے پوتر ہو جایا کرتے تھے وہی آگے جا کر نالہ لئی میں گرتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقسیم سے پہلے نالہ لئی کے کناروں پر دو شمشان گھاٹ ہوا کرتے تھے جہاں ہندوؤں کی ارتھیاں جلائی جاتیں اور ان کی راکھ نالہ لئی میں بہا دی جاتی۔ ایک شمشان گھاٹ ڈھوک دلال اور دوسرا عین اس جگہ تھا جہاں راولپنڈی میڈیکل کالج واقع ہے۔

مسلمان نہ صرف نالہ لئی کے پانی سے وضو کرتے تھے بلکہ راولپنڈی کی ایک بزرگ ہستی حافظ محمد عبدالکریم عید گاہ شریف کے بارے میں ایک کتاب ’آثار الکریم‘ میں لکھا ہے کہ وہ تہجد کے وقت نالہ لئی کے پانی سے وضو کرتے تھے۔ ایک بار علی الصبح وہ وضو کے لیے بیدار ہوئے تو انہیں سانپ نے کاٹ لیا۔ نالہ لئی کے کناروں پر پہلوانوں کے اکھاڑے بھی ہوا کرتے تھے جہاں پہلوان کُشتیاں کرنے کے بعد نالہ لئی کے پانی میں نہایا کرتے تھے۔  

نالہ لئی کے کناروں پر دھوبی گھاٹ بھی ہوا کرتے تھے جہاں کے صاف شفاف پانیوں سے کپڑے دھوئے جاتے تھے۔ ایسا ہی ایک بڑا سرکاری دھوبی گھاٹ ٹوپی رکھ کے دوسری جانب تھا جس میں چھاونی میں رہائش پزیر فوجیوں اور افسروں کے کپڑے دھوئے جاتے تھے۔  

 جب نالہ لئی کے کنارے کھیت اور باغات تھے

انیسویں صدی کے وسط میں راولپنڈی ایک قصبہ تھا جس کی آبادی پندرہ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ تب نالہ لئی کی چوڑائی دو سے تین سو فٹ تک ہوتی تھی۔ اس کے کناروں پر گھنے درخت تھے جن کی شاخیں پانی کے اوپر تیرتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ راولپنڈی کی آبادی صرف پرانے قلعے کے ارد گرد ہی تھی۔ نالہ لئی کے اطراف کہیں ایک کلومیٹر اور کہیں تین سے چار کلومیٹر تک کھیت ہی کھیت تھے جن کو سیراب کرنے کے لیے نالے کے اندر ’جلار ‘ لگائے گئے تھے۔

یہ آب پاشی کا ایک قدیم طریقہ تھا۔ نالہ لئی کے کناروں پر گہرے حوض بنے ہوئے تھے اس میں جلار کا وہ حصہ نصب ہوتا تھا جو پانی کو اوپر اٹھاتا تھا۔ ایک یا دو بیل دائرے میں مسلسل چلتے تھے تو جلار کی گردش سے پانی اوپر اٹھتا تھا اور پھر چھوٹی چھوٹی نالیوں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچتا تھا۔ نالہ لئی اور اس کے معاون نالوں کے گرد باغات بھی تھے۔ شاہ اللہ دتہ میں ’سادھو دا باغ‘ اور پرانے قلعے سے ذرا فاصلے پر شاہ اللہ دتہ روڈ پر ہی نالہ لئی کے ساتھ  ’باغِ سرداراں‘ تو تقسیم سے پہلے تک موجود رہے۔ سادھو دا باغ کے مقدس چشمے کا پانی بھی نالہ لئی میں ہی گرتا تھا۔

میجر جے ای کراکرافٹ  جو راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر رہے ہیں ان کی ایک کتاب ’Report on the Settlement of the Rawul Pindee District‘  لاہور سے 1964 میں چھپی تھی۔ یہ ہی کتاب دراصل بعد میں شائع ہونے والے شہر کے ڈسٹرکٹ گزیٹئرز کی بنیاد بنی۔ تب راولپنڈی کے سپیلنگRawul Pindee  لکھے جاتے تھے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں ’لیہ ندی اپنی متعدد شاخوں کے ساتھ راولپنڈی کے شمال میں واقع چونے کے پتھروں کے پہاڑوں کے دامن سے نکلتی ہوئی تیزی کے ساتھ وادی میں اترتی ہے۔ اس کے پانی کا اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں کہ اس کے کناروں پر جلار ہیں جن کے ذریعے  زمینیں سیراب کی جاتی ہیں۔ لیہ کے کناروں پر پانی کے  کئی کنویں بھی ہیں جو زرعی مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔

لیہ راولپنڈی شہر اور چھاونی کے بیچوں بیچ پر آشوب پتھریلے راستوں سے گزرتی ہوئی دریائے سواں میں جا ملتی ہے جہاں رائل انجنیئرز کے لیفٹیننٹ کرنل ٹیلر ایک شان دار پل تعمیر کر رہے ہیں  جو شہر سے جنوب مشرق میں چار میل دوری پر واقع ہے۔ انگریزوں نے لئی کو Leh لکھا ہے۔

نالہ لئی کو جڑواں شہر کھا گئے

 انگریزوں نے 1849 میں راولپنڈی پر اپنے قبضے کے ساتھ ہی یہاں پر چھاونی کی بنیاد رکھ دی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ اتنی پھیلی کہ ہندوستان کی سب سے بڑی چھاونی بن گئی۔ اب نالہ لئی شہر اور کنٹونمنٹ میں حدِ فاصل قرار پایا، انگریز دور تک تو آبادیاں ایک حد تک ہی رہیں لیکن جب 1960 میں یہاں پاکستان کا نیا دارالحکومت بننا شروع ہوا تو شہر کی آبادی میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔

راولپنڈی کے رہائشی بابو اشفاق بتاتے ہیں کہ ’1970 تک نالہ لئی کا پانی صاف رہا لیکن جب اسلام آباد کا سیورج زدہ پانی نالہ لئی میں شامل کر دیا گیا تو یہ گندے نالے میں بدل گیا۔ لوگوں نے پرانے درخت کاٹ ڈالے۔ شہر کا کوڑا کرکٹ نالے میں پھینکا جانے لگا۔ تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو سارا کباڑ بھی یہاں دفن کیا جانے لگا۔ شہر پھیلنا شروع ہوا تو کھیتوں کی جگہ مکان بن گئے۔ جب کھیت بھی ختم ہو گئے تو پھر مکان نالے کے زمین پر بننے لگے۔ وہ نالہ جو کئی سو فٹ چوڑا تھا اب بعض جگہوں پر بیس تیس فٹ رہ گیا ہے۔ شہر کا فاضل تعمیراتی میٹیریل نالے میں گرائے جانے سے نالے کی گہرائی بھی ختم ہو گئی۔ اس لیے اب جب بارش ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ پانی شہر میں آگیا حالانکہ شہر نالہ لئی کے اندر آ گیا ہے پانی اب بھی وہی ہے۔‘

لئی سے قریب قریب کوئی سنسکرت کا لفظ موجود نہیں اس لیے غالب امکان ہے کہ یہ پوٹھوہاری لفظ ’لاہی‘ سے نکلا ہے جس کے معنی اترائی کے ہیں۔ یعنی بارش کا پانی جب مارگلہ کی 1200 میٹر تک بلند چوٹیوں کے دامن سے گزرتا ہے تو اس کی رفتار اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اسے تیز رفتار پانی کے معنوں میں ’نالہ لاہی‘ کہا جانے لگا جو اب بگڑ کر نالہ لئی بن گیا ہے۔

یہ پانی صدیوں سے آ رہا ہے۔ پہلے یہ نالہ گہرا بھی تھا اور چوڑا بھی، اس لیے یہ کناروں کے اندر ہی رہتا تھا۔ اب اس کی جگہ پر انسان قابض ہو گئے ہیں جن سے یہ اپنی جگہ واپس مانگ رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین