ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، جہاں شہر کی تاریخ سانس لیتی ہے

جب متحدہ ہندوستان وبائی امراض اور قحط کا شکار تھا اور اوسط عمر صرف 25 سال رہ گئی تھی، تو کیسے ایک برطانوی خاتون ڈاکٹر اور مسیحی مبلغین نے اس اہم ہسپتال کی بنیاد رکھی؟

 جب متحدہ ہندوستان وبائی امراض اور قحط کا شکار تھا اور اوسط عمر صرف 25 سال رہ گئی تھی، تو کیسے ایک برطانوی خاتون ڈاکٹر اور مسیحی مبلغین نے اس اہم ہسپتال کی بنیاد رکھی؟ 

راولپنڈی، انیسویں صدی کے وسط تک اتنا ہی بڑا تھا جتنے آج کل اوسط درجے کے قصبے ہوتے ہیں لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس قصبے کی تقدیر بدل دی۔

 14 مارچ 1849، جب دریائے سواں کے کنارے ہمک کے میدان میں انگریز جرنیل گلبرٹ کے ہاتھوں سکھ فوج کے آخری جرنیلوں نے ہتھیار ڈالے تو اس فتح نے راولپنڈی کی جغرافیائی اہمیت ثبت کر دی۔ شہر میں ایک ایسی چھاؤنی بننا شروع ہوئی جو آگے چل کر ہندوستان کی سب سے بڑی چھاؤنی بن گئی۔

ریلوے لائن کے ذریعے شہر ہندوستان بھر سے منسلک ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسیحی مبلغین کی آمد ہوئی تو انہوں نے تعلیم اور صحت کے میدان چن لیے۔ راولپنڈی کا گورڈن کالج اور ہولی فیملی ہسپتال بھی انہی مبلغین کے وہ بےمثال کارنامے ہیں جو ایک صدی گزرنے کے باوجود بھی روشن ہیں۔

ہولی فیملی سے جڑی وہ کہانی جس کا جاننا ضروری ہے

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، جو آج 1100 بستروں کے ساتھ پنجاب کا چوتھا بڑا سرکاری ہسپتال ہے، 20 ویں صدی کے اوائل میں کیسے قائم ہوا، یہ کہانی دلچسپ بھی ہے اور حیران کن بھی۔

شاید یہ بات بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ 19 ویں صدی کے اختتام اور 20 ویں صدی کے آغاز میں متحدہ ہندوستان میں ہر چار نومولود بچوں میں سے ایک بچہ پہلے سال ہی مر جاتا تھا جب کہ ایک ہزار بچوں میں سے 509 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انتقال کر جاتے تھے۔ اس عرصے میں ہندوستان میں اوسط عمر صرف 25 سال رہ گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی وجہ جہاں علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان تھا، وہاں پے درپے آنے والے قحط اور وبائیں بھی تھیں۔ 1876-78 کے دوران قحط کی وجہ سے ایک کروڑ لوگ مر گئے۔ پھر 1918-19 کے دوران ہندوستان کی پانچ فیصد آبادی کرونا کی طرح کے ہسپانوی وبائی زکام سے مر گئی جس کی تعداد ڈیڑھ سے دو کروڑ تک بیان کی جاتی ہے۔

یہ خبریں جب برطانیہ اور امریکہ پہنچیں تو وہاں سے مسیحی مشنری بڑی تعداد میں ہندوستان آئے۔ یہاں آ کر انہوں نے صحت و تعلیم کے میدانوں میں انتھک کام کیا۔ آج بھی ہندوستان و پاکستان میں تعلیم اور صحت کے کئی ادارے ایسے ہیں جن کا قیام مسیحی مبلغین کے مرہونِ منت ہے، انہی میں سے ایک ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی بھی ہے۔

اس ہسپتال کی بنیادوں میں جس برطانوی خاتون ڈاکٹر کا ہاتھ تھا وہ برطانیہ کی پہلی 10 خواتین ڈاکٹروں میں 10 ویں نمبر پر تھیں۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس وقت یہ خاتون ڈاکٹر بنی تھیں، برطانیہ کے میڈیکل کالجوں میں خواتین کو داخلہ ہی نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اس کے لیے انہیں قریبی ملک فرانس جانا پڑتا تھا۔ اس خاتون کا نام ایگنس مکلارن (Agnes Mclaren) تھا جو 1837 میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ڈنکن مکلارن نہ صرف ممتاز تاجر تھے بلکہ ایڈمبرا کے لارڈ پرووسٹ تھے جسے عمومی معنوں میں آپ میئر بھی کہہ سکتے ہیں۔

ایگنس اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے پورے سکاٹ لینڈ میں متحرک ہو گئیں جہاں انہوں نے خواتین کے حقِ رائے دہی کے لیے ایک تحریک کی بنیاد رکھ دی۔

ایگنس بچپن سے ہی ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں، اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے فرانس کے مونٹ پلر کالج میں داخلہ لے لیا۔ 1878 میں وہ نہ صرف ڈاکٹر بن گئیں بلکہ مونٹ پلر سے ڈاکٹر بننے والی پہلی خاتون ڈاکٹر کا اعزاز بھی انہوں نے اپنے نام کر لیا۔ 61 سال کی عمر میں انہوں نے کیتھولک فرقہ اختیار کر لیا۔ تین سال بعد 1905 میں انہوں نے لندن میں ’میڈیکل مشن کمیٹی‘ کی بنیاد رکھی جس میں کیتھولک مشن کے کئی رضا کار بھی شامل ہو گئے۔ ہندوستان سے خواتین اور بچوں کی صحت کی ناگفتہ بہ حالت پر آنے والی خبریں ان کے لیے تشویش کا باعث تھیں جس پر انہوں نے برطانیہ میں ’راولپنڈی میڈیکل مشن‘ کی بنیاد رکھی۔

اس مشن کے زیرِ اہتمام انہوں نے 1909 میں راولپنڈی میں سینٹ کیتھرین ہسپتال قائم کیا جو سینٹ میری سکول مری روڈ کے ساتھ پریزینٹیشن کانونٹ سکول کی عمارت میں تھا۔ اس وقت ہندوستان میں خواتین، ہندو تھیں یا مسلمان، انہیں مرد طبی عملے کو دکھانے کی اجازت نہیں تھی، وہ زچگی جیسے پیچیدہ عمل کے لیے دائیوں کے رحم و کرم پر تھیں۔ ایگنس مکلارن نے اس میں ترمیم کے لیے ہولی سی میں پوپ سے پانچ بار رابطہ کیا تاکہ راہباؤں کو اجازت دی جائے کہ وہ طبی خدمات میں شامل ہو سکیں کیونکہ انہیں راولپنڈی میں خواتین نرسز نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ابھی یہ ہسپتال قائم ہوئے صرف چار سال ہی ہوئے تھے کہ ایگنس 17 اپریل 1913 کو انتقال کر گئیں۔

سسٹر این جو ہولی فیملی کی بانی ہیں

ایگنس میکلارن جب برطانیہ اور یورپ میں راولپنڈی میں اپنے ہسپتال کے لیے عطیات جمع کر رہی تھیں تو ان کا رابطہ آسٹریا کی ایک نوجوان طالبہ اینا ماریہ ڈینجل (Anna Maria Dengel) سے ہوا۔ بعد میں ایگنس کی ترغیب پر ہی ماریہ نے آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف کارک میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ایگنس میکلارن کے مشن کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ 1920 میں انہوں نے کیتھرین ہسپتال راولپنڈی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

انا ماریہ ڈینجل جو راولپنڈی میں ’سسٹر این‘ کے نام سے مشہور ہوئیں، انہوں نے ہی سینٹ کیتھرین ڈسپنسری کو ضم کر کے فروری 1928 میں مری روڈ پر ہولی فیملی ہسپتال قائم کیا۔ راولپنڈی کی خواتین شروع شروع میں مسیحی ہسپتال آنے سے گھبراتی تھیں لیکن سسٹر این خواتین کا اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اب جگہ کم تھی اور مریض زیادہ، جس پر راولپنڈی میں سید پور روڈ کے ساتھ شہر کے مضافات میں 400 کنال کی جگہ پر موجودہ ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کا زمانہ تھا۔

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ہولی فیملی کی تاریخ کے حوالے سے کچھ معلومات دی گئی ہیں جن کے مطابق: ’یہ ہسپتال جب موجودہ جگہ پر قائم ہوا تو اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال ہونے کی وجہ سے اس نے زچگی کے حوالے سے نمایاں شہرت حاصل کر لی۔ ہسپتال تین منزلہ تھا، گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر 200 بستروں والے وارڈز، ایمرجنسی روم، آپریشن تھیٹر، لیبر روم اور نرسریاں تھیں۔ ہسپتال میں صفائی ستھرائی اتنی معیاری تھی کہ فرش آئینے کی طرح چمکتے دمکتے نظر آتے تھے۔‘

ڈاکٹر شازیہ حفیظ جو کہ ہولی فیملی کی ایم ایس رہی ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ہاؤس جاب کے دور سے ہی اس تاریخی ہسپتال سے منسلک رہی ہیں۔ یہ اپنے فنِ تعمیر کے حوالے سے لاجواب ہے۔ کشادہ، ہوادار اور روشن کمرے، ہر فلور پر لانڈری کو تہہ خانے میں پہنچانے کے لیے پائپ لگے ہوئے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ہسپتال بناتے وقت کس جانفشانی اور لگن سے کام لیا گیا ہو گا۔

ہولی فیملی جس کی دیواروں پر شہر کا ایک عہد کندہ ہے

ہولی فیملی ہسپتال کے مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو ایک افتتاحی تختی لگی ہوئی ہے جس پر لکھا ہوا ہے: ’خدا کی شان میں ہولی فیملی ہسپتال 1946‘۔ اس ہسپتال کو دوسری عالمی جنگ کے ایک اطالوی قیدی، جو ماہرِ تعمیرات بھی تھا، نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کے لیے فنڈز جہاں امریکہ اور یورپ کی مشنریز نے فراہم کیے، وہیں شہر کی متمول شخصیات بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ ان شخصیات کے کتبے مختلف کمروں کے باہر آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان شخصیات میں سیتا رام بھنڈاری بھی تھے جو میونسپل کمیٹی کے صدر بھی رہے۔ سردار سوہن سنگھ، جو کہ رئیسِ اعظم راولپنڈی سردار سجھان سنگھ کے بیٹے تھے، انہوں نے چار کمروں کے لیے عطیات دیے۔ چلڈرن وارڈ کو نواب آف کوٹ فتح خان اٹک کے سردار محمد نواز خان نے بنوایا تھا جنہیں 1939 میں ’سر‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ ایک کمرہ شیخ عبد الغنی اینڈ سنز نے بنوایا تھا، یہ ڈھیری حسن آباد کے متمول تاجر تھے۔ راولپنڈی الیکٹرک سپلائی کمپنی، جو کہ متحدہ پنجاب کے پہلے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان آف واہ کے خاندان کی ملکیت تھی، اس کی بھی ایک تختی موجود ہے۔

502 ورکشاپ کے لیفٹیننٹ کرنل ایچ ہارنک نے بھی ایک کمرہ عطیہ کیا تھا۔ تلسی داس سہگل، جو کہ لال حویلی کے مالک دھن راج سہگل کے بھائی تھے، انہوں نے بھی ایک کمرہ بنوایا تھا۔ دھنجے بھائی راولپنڈی کی پارسی کمیونٹی کا نمایاں نام تھے، ان کی تانگہ سروس راولپنڈی سے کشمیر چلتی تھی۔ ایک کمرے کے باہر مسٹر اینڈ مسز کتھبرٹ کنگ (Cuthbert King) لکھا ہوا ہے جو 1945 سے 1947 تک راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر تھے۔

وہ ہسپتال جہاں روزانہ ہزاروں مریض شفایابی کے لیے آتے ہیں اور جسے بنے ہوئے ایک صدی ہونے کو ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے ہندوستان آنے والی مشنریز کا کیا کردار ہے۔ ہولی فیملی کے رومن کیتھولک چرچ کے کیٹی کیسٹ انچارج (Catechist incharge) بابو ساجد امین کھوکھر کے بقول یہاں جمعہ اور اتوار کو عبادت کے لیے ہزار ڈیڑھ ہزار مسیحی آتے ہیں۔ گھنٹیاں بجتی ہیں، ایگنس میکلارن اور انا ماریہ ڈینجل کی روحیں شاد ہوتی ہیں۔ لیبر روم سے جب کسی نئے بچے کے چیخنے کی آواز آتی ہے تو زندگی کا نغمہ گنگنانے لگتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ