پنڈی بوائز بھیشم اور بلراج ساہنی سے ملیے

بیتے وقتوں کے راولپنڈی کے دو سپوتوں کی کہانی جنہوں نے یہاں سے نکل کر پورے برصغیر پر دھاک جما دی۔

پنڈی کے د و سپوت: بھیشم ساہنی (دائیں) اور بلراج ساہنی (پبلک ڈومین)

یہ 1988 میں بننے والی انڈین ٹی وی سیریز’تمس‘ کا منظر ہے :

تقسیم سے بہت پہلے کا وقت ہے۔ شاید 1926 کے فسادات ہوں جب راولپنڈی خاک اور خون میں لپٹ جاتا ہے، ایسے میں پیر مہر علی شاہ گولڑہ اپنے معتقدین کے ساتھ راجہ بازار سے گزرتے ہیں، اور جامع مسجد میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ علاقے میں لگنے والی آگ سے ابھی تک دھواں اُٹھ رہا ہے۔

یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے تھے جب کسی نے جامع مسجد کے باہر سؤر مار کر پھینک دیا تھا۔ جب بازار سے پیر صاحب گزرتے ہیں تو ہندو مسلمان سب ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ سب کو امید ہے کہ پیر صاحب شہر کا امن بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

’تمس‘ میں ان فسادات کو انگریز کی سازش قرار دیا گیا ہے۔ ایک انگریز افسر نے ناتھو نامی ایک چمار کو سؤر مارنے کے عوض پیسے دے رکھے ہوتے ہیں اور اگلے روز وہی سؤر مسجد کے سامنے ملتا ہے۔ یہ فلم بھیشم ساہنی کے 1974 میں سامنے آنے والے ناول پر بنائی گئی تھی جسے ناول کی اشاعت کے ایک سال بعد ہی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا تھا۔ جب یہ فلم بنی تو اس کے حصے میں بھی تین ایوارڈ آئے اور اسے تقسیم کے تناظر میں بننے والی بہترین فلم کا اعزاز بھی ملا۔

بھیشم ساہنی نے اس کے علاوہ کئی ناول، افسانے، فلمیں اور ڈرامے لکھے۔ انہیں حکومتِ ہند نے 1988 میں ادب میں اعلیٰ خدمات پر پدم بھاشن ایوارڈ بھی دیا۔ شاید لوگ یہ نہیں جانتے کہ بھیشم ساہنی کی جنم بھومی راولپنڈی تھا جہاں وہ 8 اگست 1915 کو پیدا ہوئے۔ وہ بالی وڈ کے نامور ہیرو بلراج ساہنی کے بھائی تھے جن کا گھر کالج روڈ سے متصل عالم روڈ پر واقع تھا۔ ان کے والد شری ہربنس لال امپورٹ ایجنٹ تھے اور برطانیہ اور فرانس سے مال منگوا کر کابل، کوئٹہ، پشاور اور سری نگر تک سپلائی کرتے تھے۔ ہربنس لال نہ صرف شہر کی نمایاں شخصیات میں شامل تھے بلکہ آریا سماج کے رہنماؤں میں تھے۔ یہ خاندان بھیرہ سے راولپنڈی آیا تھا، بھیرہ میں آج بھی ساہنیوں کا محلہ موجود ہے۔ اسی تنظیم نے ہندو طلبہ کے لیے شہر میں ڈی اے وی کالج بھی بنایا تھا جس میں بلراج اور بھیشم دونوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں بھائیوں کو ابتدائی تعلیم کے لیے ایک گوروکل میں داخل کروایا گیا جو شہر سے چار میل کے فاصلے پر تھا۔ دونوں بھائی صبح گھوڑے پر سوار ہو کر گوروکل پہنچتے۔ گوروکل میں مذہبی تعلیم دی جاتی تھی اتوار کے روز کم سن برہمن پجاریوں کی ٹولی جن کے سر منڈے ہوئے ہوتے تھے بسنتی کپڑے پہن کر شہر کی سڑکوں سے ہوتی ہوئی آریہ سماج کا رخ کرتی۔ آریہ سماج راولپنڈی دو حصوں میں منقسم تھی ایک جدت پسند اور دوسرے قدامت پرست، بھیشم ساہنی کے والد جدید تعلیم کے حامی تھے اور ان کا گروپ ہی ڈی اے وی (دیو آنند آریوویدک) کالج چلا رہا تھا۔ اس لیے جب بلراج ساہنی نے گروکل سے بغاوت کر دی تو دونوں بھائیوں کو ڈی اے وی سکول داخل کروا دیا گیا۔ آریہ سماج نے یہ کالج انگریزوں کی جانب سے گورڈن کالج کے جواب میں بنایا تھا۔

بھیشم ساہنی نے اپنی کتاب ’بلراج میرا بھائی‘ میں اس دور کے راولپنڈی کی ایک جھلک پیش کی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں: ’پتا جی کے ہاں اکثر مسلمان تاجر آتے تھے ویسے تو مسلمانوں کے خلاف تحقیر آمیز باتیں دل کھول کر کرتے تھے مگر ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے انہیں پرتکلف کھانا کھلاتے مگر ان کے رخصت ہونے کے بعد وہ سارے برتن دہکتے ہوئے کوئلوں سے پاک کیے جاتے۔‘

راولپنڈی میں 1929 میں بجلی کمپنی قائم ہوئی تو شری ہربنس لال کا گھر آخری گھر تھا جہاں بجلی لگوائی گئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ بجلی سے نظر خراب ہو جاتی ہے۔

بلراج نے 1928 اور بھیشم نے 1930 میں میٹرک کر لیا تو انہیں ڈی اے وی کالج داخل کروا دیا گیا جہاں ان کے خیالات پر انگریزی کے استاد جسونت رائے نے کافی اثر ڈالا۔ جسونت رائے کا خاندان ایک ماڈرن خاندان تھا جہاں گوشت بھی پکتا تھا اور ان کے مسلمان دوست بھی ان کے ہاں آ کر کھانا کھاتے۔ جسونت رائے اکثر شامیں اپنے شاگردوں کے ہمراہ راولپنڈی صدر میں گزارتے جو ان دنوں مغربی کلچر کا مرکز تھا۔ چمکتی دمکتی سجی سجائی دکانیں، صاف ستھری ہموار سڑکیں، گوری، سنہرے بالوں والی برطانوی یا اینگلوانڈین عورتیں، یونیفارم پہنے ہوئے برطانوی فوجی مٹر گشت کرتے نظر آتے۔

راولپنڈی سے اکثر دونوں بھائی سائیکل پر مری جایا کرتے، کوہالہ، گلمرگ، سری نگر کے کتنے ہی سفر اکٹھے کیے تھے۔ سری نگر میں ان کا گرمائی گھر بھی تھا جہاں چھٹیاں گزاری جاتی تھیں۔ بھیشم نے 1933 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا جہاں بلراج کا آخری سال تھا اور وہ یونین کے صدر بھی تھے۔

بھیشم لکھتے ہیں کہ بلراج نے اپنے استاد جسونت رائے کی بہن سے شادی کر لی حالانکہ ہندو سماج میں رشتے کی بہن سے شادی معیوب سمجھی جاتی تھی۔ جب 1937 میں بھیشم ساہنی لاہور سے تعلیم مکمل کر کے لوٹے تو راولپنڈی کی گلی گلی میں بلراج ساہنی اور ان کی بیوی دمینتی کے چرچے تھے ۔ بھیشم لکھتے ہیں، ’راولپنڈی ان دنوں قصباتی انداز کا تنگ نظر شہر تھا جہاں ہر بات ہر شخص کا ذاتی معاملہ بن جاتی ہے، وہاں چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی چند گھنٹے کے اندر شہر کے ہر شخص کے علم میں آ جاتا اور سارے شہر میں موضوع گفتگو بن جاتا۔ کئی پہلوؤں سے یہ شہر کافی قدامت پرست تھا۔ اس کی اپنی الگ قدریں، اپنے الگ معیار، اپنی الگ روایتیں تھیں۔

’عورتوں کا وہاں اپنے شوہر کے شانہ بشانہ سڑک پر چلنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وہ شوہر کے پیچھے پیچھے چلتی تھیں اور وہ بھی ا س طرح کہ ان کا چہرہ کسی قدر ڈھکا رہتا تھا۔ اگر شوہر اور بیوی تانگے میں کہیں جا رہے ہوتے تو شوہر اگلی سیٹ پر کوچوان کے ساتھ بیٹھتا اور بیوی پچھلی سیٹ پر۔ عورتوں سے یہ توقع نہیں کی جاتی تھی کہ وہ باہر ننگے سر پھریں یا راستے میں زور سے ہنس پڑیں، یا آزادی اور بے پروائی سے ٹہلتی نظر آئیں۔ اس لیے جب شادی کے چند ہی دنوں بعد دمینتی اس عالم میں بلراج کے ساتھ سائیکل کے کیریئر پر بیٹھی ٹوپی رکھ پارک (موجودہ ایوب پارک) کی طرف لمبی سیر کے لیے جاتی دکھائی دیں کہ ان کا لباس بھی انتہائی معمولی تھا اور کلائی میں سونے کی چوڑی تک نہ تھی تو انہیں ہمارے گھرانے کے جس دوست اور رشتہ دار نے بھی دیکھا، اس کا حیران اور پریشان ہونا فطری تھا۔ ایک سہ پہر لوگوں نے انہیں ایک مال گاڑی کے کھلے ڈبے میں کھڑا دیکھا جو چکلالہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔‘

بلراج کو کاروبار سے دلچسپی نہ تھی ایک روز وہ دیویندر ستیارتھی کے ساتھ پنڈی کے مضافاتی دیہات میں پوٹھوہاری لوک گیت اکٹھے کرنے کے لیے نکل گئے۔ دیویندر کو لوک گیتوں اور لوک کتھاؤں میں کافی شہرت حاصل تھی۔ بلراج نے راولپنڈی سے انگریزی کا ایک ادبی رسالہ ’کُنگ پوش‘ بھی نکالا جو کشمیری زبان کا لفظ ہے جس کے معنی زعفران کے ہیں۔ اس کے بعد بلراج کو شانتی نکیتن میں 40 روپے ماہوار پر استاد کی نوکری مل گئی جہاں ان کی ٹیگور سے بھی ملاقاتیں رہیں۔

سیوا گرام جہاں مہاتما گاندھی رہتے تھے وہاں ڈاکٹر ذاکر حسین نے بنیادی تعلیم کا ڈول ڈالا تو گاندھی جی کی آشیرباد سے ہی ایک مجلہ ’نئی تعلیم‘ شروع کیا جس میں بلراج کو بھی نوکری مل گئی۔ بھیشم جب بلراج سے ملنے راولپنڈی سے سیوا رام گئے تو گاندھی سے بھی ملاقات ہوئی جس کا احوال بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’گاندھی جی سے بات کرتے ہوئے جب مجھے کوئی موضوع نہیں سوجھتا تو میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ ایک بار وہ ہمارے شہر راولپنڈی آئے تھے۔ یہ برسوں پہلے کی بات تھی جب کوہاٹ میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ اس فساد کے فوراً بعد وہ راولپنڈی پہنچے تھے۔ میرے یاد دلاتے ہی ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ ’افوہ، ان دنوں میں کتنا کام کر لیتا تھا، کبھی تھکتا ہی نہ تھا۔‘ یہ کہہ کر وہ اس وقت کی یادیں تازہ کرنے لگتے ہیں۔

’انہیں راولپنڈی کے کمپنی باغ کا وہ نقشہ اچھی طرح یاد ہے۔ اس باغ کے سامنے وہ مکان بھی انہیں یاد ہے جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔ بہت سے نام بھی ان کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ایک وکیل جان صاحب کے بارے میں وہ پوچھتے بھی ہیں۔ (جسٹس محمد جان، 1885 میں لال کڑتی راولپنڈی میں عطا محمد میر منشی کے گھر پیدا ہوئے، مڈل ڈینیز ہائی سکول سے میٹرک کرنے کے بعد 1908 میں لندن چلے گئے جہاں سے لنکنز ان سے 1912 میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور واپس آ کر پنڈی میں پریکٹس شروع کر دی، 1947 میں ہائی کورٹ کے جج بنائے گئے پھر پاکستان کے کسٹوڈین بھی رہے، بحوالہ تاریخ راولپنڈی و تحریک پاکستان از محمد عارف راجہ)۔

پھر بلراج کو بی بی سی میں اناؤنسر کی نوکری مل گئی اور وہ 1940 میں اپنی بیوی کے ساتھ انگلستان چلے گئے چار سال بعد لوٹے۔ راولپنڈی آنے کے دوسرے ہی دن بلراج مجھ سے کہنے لگے کہ شام کو انہیں مسلم لیگ کے جلسے میں جانا ہے جو کمپنی باغ میں ہوا تھا اور اس سے فیروز خان نون نے خطاب کیا تھا۔

 بھشم ساہنی لکھتے ہیں کہ جب تقسیم ہوئی تو بلراج بمبئی میں تھے، ان کی بیوی ہیضے سے وفا ت پا چکی تھیں اس لیے اس کے دو بچے دادی کے ساتھ سری نگر میں اور پتا جی اکیلے راولپنڈی میں تھے، جہاں بدترین فسادات ہو رہے تھے دو سو گاؤں جلا دیے گئے تھے۔

1962 میں بلراج ساہنی نے پاکستان کا خیر سگالی دورہ کیا اور واپسی پر ایک سفرنامہ ’میرا پاکستانی سفر‘ لکھا جو پنجابی زبان میں کتابی صورت میں چھپا جس کا ترجمہ یاسر جواد نے کیا اور اسے سارنگ پبلیکیشنز نے 1998 میں چھاپا تھا۔

بلراج لکھتے ہیں کہ ’چار برس کا تھا جب چھاچھی محلے میں ہمارا گھر تعمیر ہوا تھا۔ مستری کریم بخش نے بنایا تھا۔ ہم اسے چاچا جی کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ ان کا گھر بھی ہمارے محلے میں تھا، شاہ کی ٹاہلیاں والی گلی میں۔ مجھے پرانے وقت یاد آئے جب چھاچھی محلے میں صرف ہمارا گھر اور اس کے سامنے چھاچھیوں کی بڑی سی حویلی ہی دو پکی عمارتیں تھیں۔ باقی ہر طرف کچے کچے کوٹھے تھے جیسے گاؤں میں ہوتے ہیں۔ تب پنڈی سے کشمیر مال برداری کرانچیوں (بیل گاڑیوں) کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہ چھاچھیوں کا پیشہ تھا۔ بیل گاڑیوں کے لمبے لمبے قافلے چلتے۔ ہمارے محلے میں گھر گھر بیلوں کی گھنٹیاں سنائی دیتیں۔ یہ مسلمان چھاچھی بیلوں کو اپنے اہل خانہ کی طرح پیار کرتے۔ کوئی بیل مر جاتا تو عورتیں دھاڑیں مار مار کر روتیں اور پیٹتیں۔

’میرادوست خورشید اور اس کا بڑا بھائی غنی بھی چھاچھیوں کی اولاد تھے۔ جنگِ عظیم اول کے بعد چھاچھیوں کے کچے کوٹھے گرنے لگے اور ان کی جگہ پکے مکان بننا شروع ہو گئے۔ پہلے محلے میں بمشکل ایک دو گھر ہندوؤں کے تھے اب کافی سارے ہندو آگئے۔ پھر لاریوں کے انے سے بیل گاڑیوں کا کاروبار ختم ہو گیا اور چھاچھی آہستہ آہستہ سارے محلے سے غائب ہونے لگے۔ غنی کا باپ موٹر چلانے لگا۔ زیادہ تر نے بیل گاڑیاں چھوڑ کر تانگے چلانا شروع کر دیے تھے۔ جب میں اپنے گھر پہنچتا ہوں تو ہمارے گھر کے نئے مکین جالندھر کی طرف سے ہیں بہت شریف، ملنسار، عاجز، پردہ نشین ہونے کے باوجود عورتوں نے مجھ سے پردہ نہ کیا۔ بڑے احترام سے چائے پیش کی۔ کمروں کا چکر لگوایا۔ ہمارا فرنیچر اسی ترتیب سے پڑا ہوا تھا۔ مکان سے محروم ہونے کا رنج بالکل محسوس نہ ہوا، لیکن جانے کیوں فرنیچر کو دیکھ کر خیال آیا کہ اسے اٹھا کر لے جاؤں۔ یہاں ایک پرانے محلے دار کی بیٹی کا بیاہ ہے۔ بارات کو ہمارے گھر کے نچلے حصے میں کھانا کھلایا جا رہا ہے۔ برتانے والوں میں میں بھی شامل ہوں۔

’شہر کے صحافیوں نے مجھے لیاقت پارک میں پارٹی دی ہے۔ شورش ملک، افضل پرویز (جن کی پنجابی نظمیں بھارتی رسائل میں بھی شائع ہوتی ہیں) اور دیگر کئی دوستوں نے پنجابی اور اردو کی ناقابل فراموش نظمیں سنائیں۔ پھر میری درخواست پر ان دوستوں نے پارک میں دور دیہات سے فنکاروں کو بلا کر لوک گیتوں کا میلہ بھی لگایا۔ زندگی میں پہلی اور کسے معلوم شاید آخری مرتبہ میں نے اپنی جنم بھومی کی گو دمیں بیٹھا۔ کئی دوستوں کے اہل خانہ بھی، میرے ساتھ اب یوں سلوک کرنے لگے تھے جیسے میں کبھی ملک سے باہر گیا تھا اور نہ کبھی جانا ہے۔

’سید پور (جس کا دوسرا نام رام کنڈ تھا) اور نور پور (جہاں بری امام کا میلہ لگتا ہے) کی سیر کرتے ہوئے وہ مقام بھی دیکھا جہاں نیا دارالحکومت بنے گا۔ مری روڈ پر راولاں نامی مقام پر ایک نیا اور بہت بڑا بند بنایا گیا ہے راول ڈیم، جس کا نیلا پانی جھیل کی صورت کئی میل کے رقبے پر پھیل گیا ہے۔ دارالحکومت کا مشرقی حصہ اس کو چھوئے گا۔ لگتا ہے اس مقام کو منتخب کرنے والوں کی سوچ چندی گڑھ سے بہت متاثر ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کوہ مری کی پہاڑیوں کا نظارہ شوالک کی پربت مالا سے کہیں زیادہ حسین ہے۔ چندی گڑھ فرانسیسی ماہر تعمیرات کا کرشمہ تھا پاکستان کے نئے دارالحکومت کو معرض وجود میں لانے کے لیے یونانی ماہر تعمیرات کی خدمات لی گئی ہیں۔ دیکھتے ہیں اس شاہانہ دوڑ میں کون جیتتا ہے۔‘

راولپنڈی آج بہت آگے کاسفر کر چکا ہے۔ کمیٹی چوک کے ساتھ عالم خان روڈ پر واقع ساہنی برادران کا گھر بالکل اسی حالت میں موجود ہے۔ مگر بیچ میں ایک عہد آ گیا ہے جس کے باسیوں کو معلوم ہی نہیں کہ کبھی پنڈی بوائز میں بھیشم اور بلراج بھی ہوا کرتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ