یورپ میں کار سازی کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے گذشتہ ہفتہ اچھا نہیں رہا۔ پہلے طاقتور ووکس ویگن گروپ نے تنظیمِ نو کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں 2030 سے پہلے تقریباً ایک لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے۔ اور اب، ہمارے اپنے ملک (برطانیہ) میں، جے ایل آر یعنی سابقہ جیگوار لینڈ روور نے کہا ہے کہ مسابقت برقرار رکھنے کی جدوجہد کے دوران وہ 4,000 ملازمتیں ختم کر رہی ہے۔
عالمی کار صنعت کے بڑے کھلاڑیوں کے درمیان JLR نسبتاً ایک چھوٹی کمپنی ہے۔ دنیا بھر میں اس کے 43 ہزار ملازمین ہیں اور گذشتہ سال اس نے صرف 352,389 گاڑیاں فروخت کیں۔ موازنہ کیا جائے تو بی ایم ڈبلیو نے 25 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں۔ تاہم برطانیہ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے تالاب کی بڑی مچھلی ہے، جو خود 43 ہزار افراد کو روزگار دیتی ہے جبکہ ملک بھر میں سپلائی چین سے وابستہ مزید ہزاروں افراد کا روزگار بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، کسی ایک نوع کے زوال سے پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
کمپنی کو درپیش مشکلات کے پیچھے چار بنیادی عوامل کارفرما ہیں، اور اصل سوال یہ ہے کہ جے ایل آر کی انتظامیہ کو ان چیلنجز کا کتنا پہلے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔
پہلا عنصر تقریباً ایک سال قبل ہونے والا سائبر حملہ تھا، جس کے باعث کمپنی کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو گئیں اور اسے تاریخ کے مہنگے ترین سائبر حملوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسے سائبر حملے کی پیش گوئی کی جا سکتی تھی۔ ایسا ہی واقعہ M&S کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ لیکن اس حملے نے جے ایل آر کو شدید نقصان پہنچایا۔ تقریباً تمام کام رک گیا اور پیداوار کئی ہفتوں تک معطل رہی، جس کا آمدنی پر بڑا اثر پڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی فیصلوں کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں، لیکن جے ایل آر کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ پر عائد کیے گئے ٹیرف کے اثرات نے بھی کمپنی کو نقصان پہنچایا۔
اگرچہ برطانیہ نے تیزی سے نئے مذاکرات کیے، لیکن اضافی اخراجات کا بڑا حصہ کمپنی کو خود برداشت کرنا پڑا تاکہ امریکہ میں گاڑیوں کی قیمتیں مسابقتی رہ سکیں۔ اگر جے ایل آر نے چند سال پہلے امریکہ میں پیداواری پلانٹ قائم کیا ہوتا تو اس سے ممکنہ ٹیرف کے خطرات بھی کم ہوتے اور امریکی مارکیٹ میں فروخت بھی بڑھتی۔ تاہم امریکہ میں فیکٹری لگانے کی لاگت بہت زیادہ ہوتی اور سادہ الفاظ میں جے ایل آر کے پاس اتنی مالی گنجائش نہیں تھی۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جے ایل آر نے اپنی قسمت دو بڑی منڈیوں یعنی امریکہ اور چین سے جوڑ رکھی ہے۔ اور چین کی مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، کیونکہ وہاں کے صارفین مقامی برانڈز کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں، خاص طور پر پریمیم گاڑیوں کے شعبے میں۔ نتیجتاً جے ایل آر اور دیگر مغربی برانڈز کے لیے چینی مارکیٹ کے مواقع تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔
یہ چینی برانڈز صرف چین تک محدود نہیں رہے بلکہ دیگر منڈیوں میں بھی جے ایل آر اور اس کے حریفوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ برطانیہ میں رینج روور ایووک کی کشش اب پہلے جیسی نہیں رہی کیونکہ نسبتاً کم قیمت والے چینی Jaecoo ماڈلز، جنہیں ’ٹیمو رینج روورز‘ بھی کہا جاتا ہے، خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ Jaecoo 7 اس سال برطانیہ کی تیسری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی بن چکی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جیگوار کا چین میں Chery کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ بھی ہے، جس کے تحت دونوں کمپنیاں مشرق بعید میں گاڑیاں تیار کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ جے ایل آر نے Chery کو اجازت دی ہے کہ وہ ’فری لینڈر‘ نامی گاڑی تیار کرے اور اسے دنیا بھر میں برآمد کرے، حالانکہ یہ جے ایل آر کے معروف ترین برانڈ ناموں میں سے ایک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ بھی مستقبل میں کمپنی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا؟
لیکن سب سے اہم عنصر یہ ہے: برقی گاڑیوں کے حوالے سے جے ایل آر کی کاروباری حکمت عملی۔ اور غالباً سب سے زیادہ تنقید بھی اسی پر ہو گی۔
گذشتہ ہفتے رینج روور الیکٹرک کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو جے ایل آر کے سب سے قیمتی برانڈ کی پہلی مکمل برقی گاڑی ہے۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب مجھے اس کے پری پروڈکشن ماڈل کو چلائے ہوئے ایک سال سے زیادہ گزر چکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ انہیں اتنی دیر کیوں لگی؟
کمپنی کا جواب تھا: ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ سب کچھ درست ہو۔‘
رینج روور الیکٹرک نہ صرف تاخیر کا شکار ہوئی بلکہ نئی مکمل برقی جیگوار، ٹائپ 01، بھی مؤخر کر دی گئی۔ اس گاڑی کی رونمائی اگلے ماہ متوقع ہے۔ (میں اسے دیکھ چکا ہوں اور یہ واقعی شان دار دکھائی دیتی ہے) لیکن ابتدائی خریداروں کو اپنی گاڑیاں اگلے سال گرمیوں سے پہلے نہیں مل سکیں گی۔ ساتھ ہی یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ آیا جیگوار برانڈ لگژری درجے اور ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد قیمتوں کی سطح پر کامیابی سے منتقل ہو سکے گا یا نہیں۔
جیگوار کی نئی برانڈنگ حکمت عملی کے تحت، اور سچ کہوں تو ابتدائی تشہیری مہم اور ’اس اشتہار‘ پر پہلے ہی بہت کچھ کہا جا چکا ہے، کمپنی نے E-Pace اور F-Pace جیسی مقبول ایس یو ویز سمیت موجودہ جیگوار ماڈلز کی تیاری اور فروخت روکنے کا فیصلہ کیا۔ مقصد پرانی اور نئی جیگوار کے درمیان واضح حد قائم کرنا تھا۔ نتیجتاً تقریباً ایک سال سے کوئی نئی جیگوار تیار نہیں کی جا رہی، اور رواں سال صرف آٹھ نئی جیگوار گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں۔ اس کا آمدنی پر نمایاں اثر پڑا ہے۔
ہمیں بتایا گیا ہے کہ جیگوار کو اسی وقت متعارف کروایا جائے گا جب وہ مکمل طور پر تیار ہو گی، اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسا ہی ہو۔ لیکن سولیہل فیکٹری، جہاں نئی ٹائپ 01 تیار ہو رہی ہے، اپنی مصنوعات کے معیار اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بہترین شہرت نہیں رکھتی۔
برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی ایک طویل المدتی کھیل ہے، اور وقت ہی بتائے گا کہ آیا جے ایل آر نے درست حکمت عملی اپنائی ہے یا نہیں۔ تاہم ایک بہت مثبت بات یہ ہے کہ کمپنی کے پاس رینج روور، ڈیفینڈر اور ڈسکوری جیسے برانڈز موجود ہیں، جبکہ ڈیزائن اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں برطانیہ میں موجود اس کی صلاحیت دنیا بھر میں قابلِ رشک سمجھی جاتی ہے۔
میں خلوص دل سے امید کرتا ہوں کہ یہ صرف ایک عارضی جھٹکا ہے اور جے ایل آر کی تنظیمِ نو کا ایسا حصہ ہے جو مستقبل میں کمپنی کو مزید مضبوط بنائے گا۔ مصنوعات کے حوالے سے دیکھا جائے تو جے ایل آر نے اپنی اپنی کلاس میں ہمیشہ بہترین گاڑیوں میں شمار ہونے والی مصنوعات پیش کی ہیں۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ صلاحیت ختم ہو جائے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کاروں کی عالمی مارکیٹ کی حرکیات اور کمپنیوں کے لیے خود کو بدلنے کی رفتار آج جتنی تیز اور مشکل ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔
© The Independent