لیاری کا 86 سالہ تاریخی سپینسر آئی ہسپتال زوال کے بعد دوبارہ بینائی بانٹنے لگا

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بحالی کے بعد ہسپتال میں دوبارہ او پی ڈی اور آپریشن کی سہولتیں شروع کی گئی ہیں اور انتظامیہ کے مطابق یہاں روزانہ 400 سے زائد مریض علاج اور معائنے کے لیے آ رہے ہیں۔

کراچی کے علاقے لیاری میں 86 سال قبل قائم ہونے والا سپینسر آئی ہسپتال ایک زمانے میں آنکھوں کے علاج کے لیے ملک کے اہم طبی مراکز میں شمار ہوتا تھا، لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہسپتال میں آنکھوں کے کئی اہم امراض کے علاج اور آپریشن کی سہولتیں دستیاب نہیں رہیں۔ تاہم اب اس ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دوبارہ بحال کیا گیا ہے اور یہاں روزانہ 400 سے زائد مریض علاج اور معائنے کے لیے آ رہے ہیں۔

ہسپتال کے جنرل مینیجر میجر ریٹائرڈ عبد الستار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال فروری میں آئی سائیٹ ٹرسٹ اور کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق: ’جب فروری میں ہم نے ہسپتال کا انتظام سنبھالا تو عمارت، مشینری اور طبی آلات اچھی حالت میں نہیں تھے اور مریضوں کو مناسب سہولتیں دستیاب نہیں تھیں۔‘

میجر ریٹائرڈ عبد الستار نے بتایا کہ تقریباً آٹھ ہفتوں میں عمارت کی تزئین و آرائش، وارڈز، آپریشن تھیٹر اور دیگر ضروری انتظامات مکمل کیے گئے اور 6 اپریل 2026 کو او پی ڈی کا دوبارہ آغاز کردیا گیا۔

31 مارچ کو ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد میئر کراچی نے بھی اعلان کیا تھا کہ بحالی کے بعد ہسپتال 6 اپریل سے دوبارہ فعال ہوگا۔

بعد ازاں 27 اکتوبر 2026 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہسپتال کی بحال شدہ طبی سہولتوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

اب کن امراض کا علاج ہو رہا ہے؟

سپینسر آئی ہسپتال کی سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر ندا شمیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہسپتال میں آنکھوں کے مختلف امراض کی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق: ’یہاں موتیا، کالا موتیا، آنکھوں کا دباؤ بڑھنے، آنکھوں کے سرخ ہونے اور بینائی کی کمزوری کے مسائل لے کر آنے والے مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر ندا شمیم کا کہنا تھا: ’ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے باعث آنکھوں کے پردے (ریٹینا) کو متاثر کرنے والے امراض کا علاج بھی کیا جا رہا ہے جبکہ مریضوں کو ضرورت کے مطابق ادویات اور چشموں کے نمبر تجویز کیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں موتیا کے آپریشن اور فیکو سرجری کے علاوہ اوکولوپلاسٹی کے تحت آنسو کی نالی بند ہونے کے مسائل کے آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔

بچوں کے علاج سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بھینگے پن، سفید موتیا اور پردۂ چشم کے مسائل میں مبتلا بچوں کی تشخیص اور علاج کی سہولت بھی موجود ہے۔

مفت علاج اور مریضوں کی آمد

میجر ریٹائرڈ عبد الستار کے مطابق: ’ہسپتال میں مریضوں کی رجسٹریشن اور ڈاکٹر کے معائنے کی کوئی فیس نہیں لی جاتی جبکہ ادویات اور عینکیں بھی انتہائی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے اطراف میں لیاری اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے، اس لیے مفت علاج کی سہولت ان شہریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’بحالی کے بعد ہسپتال میں روزانہ 400 سے زائد مریض او پی ڈی میں آ رہے ہیں جبکہ اب تک تقریباً 60 آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں موتیا اور فیکو سرجری بھی شامل ہیں۔‘

سپینسر آئی ہسپتال میں کراچی کے علاوہ دوسرے علاقوں سے بھی مریض علاج کے لیے آ رہے ہیں۔

اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے کوئٹہ سے کراچی آنے والے صابر علی بلوچ نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کو لے کر کوئٹہ سے کراچی اس ہسپتال میں آئے ہیں۔

صابر علی بلوچ کے مطابق: ’ہم نے خبروں میں سنا تھا کہ ہسپتال بحال ہوگیا ہے اور اچھا علاج ملتا ہے تو اہلیہ کو علاج کے لیے یہاں لایا ہوں۔‘

آشوب چشم کی وبا سے ہسپتال کے قیام تک

تاریخ دان اور محقق اقبال اے رحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ سپینسر آئی ہسپتال کے قیام کی کہانی 1938 سے تقریباً دو دہائیاں پہلے شروع ہوتی ہے، جب کراچی میں آشوب چشم کی وبا پھیلی تھی۔

ان کے بقول: ’اس وقت برطانوی حکومت نے وبا سے نمٹنے کے لیے پارسی ماہر امراض چشم ڈاکٹر کے این سپینسر کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ڈاکٹر سپینسر نے حکومت کے تعاون سے ایک بڑی جگہ کرائے پر لے کر وہاں آشوب چشم کے مریضوں کا علاج شروع کیا۔‘

اقبال اے رحمٰن کے مطابق وبا ڈیڑھ سے دو سال میں ختم ہوگئی، لیکن علاج کے لیے قائم کیا گیا کلینک برقرار رہا۔

ان کا کہنا تھا: ’ڈاکٹر سپینسر نے محسوس کیا کہ کراچی میں آنکھوں کے امراض میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور شہر میں ایک مستقل آنکھوں کے ہسپتال کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کوششیں شروع کیں اور بالآخر ہسپتال کے لیے زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔‘

تاریخی ریکارڈ کے مطابق ہسپتال کا سنگ بنیاد 28 نومبر 1938 کو رکھا گیا تھا جبکہ 14 مارچ 1940 کو اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔

ڈاکٹر رضوی کا دور اور ہسپتال کی شہرت

اقبال اے رحمٰن کے مطابق ڈاکٹر کے این سپینسر ہسپتال کے پہلے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھے جبکہ ڈاکٹر انکل سریا نے بھی ابتدائی دور میں اس ادارے کی سربراہی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی پارسی ڈاکٹروں کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا، تاہم ہسپتال کا ایک نمایاں دور ڈاکٹر اے ایچ رضوی کے زمانے میں آیا۔

اقبال اے رحمٰن نے بتایا: ’ڈاکٹر رضوی طویل عرصے تک ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہے اور انہوں نے اس ادارے کی ترقی اور مریضوں کے علاج کے لیے نمایاں کام کیا۔ اس دور میں یہاں بڑی تعداد میں آنکھوں کے آپریشن کیے جاتے تھے، جن میں موتیا سمیت مختلف امراض کے آپریشن شامل تھے۔‘

انہوں نے اپنے خاندان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بھتیجی کی آنکھ ٹیڑھی ہونے کا مسئلہ تھا، جس کا آپریشن بھی ڈاکٹر رضوی نے خود کیا تھا۔

اقبال اے رحمٰن کے بقول: ’ڈاکٹر رضوی نے کراچی کے بہت سے مریضوں کی خدمت کی اور لوگوں کی دعائیں حاصل کیں۔ اس زمانے میں ہسپتال میں مریضوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں اور لوگوں کو اپنی باری کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ میں خود بھی ہسپتال جاتا رہا ہوں اور اس کا ماضی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘

مستقبل کے منصوبے اور اصل امتحان

ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں خصوصی او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹر کی سہولتوں کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

اس کے علاوہ ہسپتال کو ڈاکٹروں اور آنکھوں کے علاج سے وابستہ پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے تربیتی ادارے کی شکل دینے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جہاں سینیئر ڈاکٹرز طبی عملے کو تربیت فراہم کریں گے۔

تقریباً نو دہائیوں پر محیط سپینسر آئی ہسپتال کی تاریخ میں بحالی کا یہ ایک نیا مرحلہ ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ ہزاروں مریضوں کے علاج کا مرکز رہا، لیکن بعد کے برسوں میں طبی اور انتظامی مسائل نے اس کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

سپینسر آئی ہسپتال کی اصل بحالی صرف عمارت کی تزئین و آرائش یا افتتاحی تقریب سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوگی کہ یہاں آنے والے مریضوں کو مسلسل معیاری اور مفت علاج ملتا ہے یا نہیں۔

ایک ایسا ادارہ جو کبھی ملک بھر کے مریضوں کے لیے امید کا مرکز تھا، اب دوبارہ وہی مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت