برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی جزیرہ قشم پر دو میزائل گرے ہیں جب کہ ایران کی فوج نے جزیرے کی فضا میں امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرایا۔
ان حملوں کے بعد ہونے والے ممکنہ نقصان کے حوالے سے کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تسنیم کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ مقامی عینی شاہدین کے مطابق جزیرہ قشم کے اوپر ایک طیارے کی آواز سنے جانے کے بعد سوزا کے علاقے میں دو پروجیکٹائل گرے۔
اس سے قبل تین نومبر کو بھی امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے بعض اہداف بشمول جزیرے قشم میں اہداف پر دفاعی حملے کیے تھے۔ یہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل کیے گئے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رواں برس 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی عملاً بند کر دیا تھا، جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ثالثوں کی مدد سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعرات کو ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو جوہری معاملے پر ایک تجویز بھیجی ہے، جس پر واشنگٹن کی جانب سے تہران کے سات مطالبات پورے کیے جانے کے بعد ہی بات چیت کی جائے گی۔
دوسری جانب قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس نے ہفتے کو زیر گردش ان خبروں کی تردید کی کہ امریکہ اور ایران اپنی جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور ان الزامات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا۔
دفتر کا کہنا تھا کہ قطری وزیراعظم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مذاکرات کو تعاون فراہم کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ قریبی رابطے میں، قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
بيان صادر عن مكتب الإعلام الدولي لدولة قطر رداً على المزاعم العارية عن الصحة والمضللة حول تصريحات معالي رئيس مجلس الوزراء وزير خارجية دولة قطر. https://t.co/E1pScFjMo9 https://t.co/Z2freP5RuJ
— Qatar's International Media Office (@IMO_Qatar) November 6, 2026
امریکی سینٹ کام کا ایرانی جوہری پروگرام کی معلومات پر انعام کا اعلان
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج نے جمعے کو کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات پر دو کروڑ ڈالر انعام ’اور ممکنہ منتقلی‘ کی پیشکش کر رہا ہے، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا کہ محکمہ خارجہ کا ایک پروگرام، ریوارڈز فار جسٹس، ’ایران کے ایٹمی پروگرام پر معلومات کے لیے دو کروڑ ڈالر تک کے انعام اور ممکنہ منتقلی کی پیشکش کر رہا ہے، جس میں اس کی تنصیبات، آلات اور سائنسی برادری جیسے اس سے وابستہ افراد کی معلومات شامل ہیں۔‘
یہ پروگرام 1984 میں محکمہ خارجہ کے قومی سکیورٹی کے انعامی پروگرام کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ امریکی جانوں اور مفادات کا تحفظ کرنے والی معلومات کے لیے رقم کی پیشکش کی جا سکے۔
Rewards for Justice is offering a reward of up to $20 million and possible relocation for information about Iran’s nuclear program, including its facilities, equipment, and associated personnel, such as those in the scientific community, or the movement of any of the above. Submit a tip: https://t.co/A8uRQJSosj
— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 7, 2026
انعام کے بارے میں اپنے بیان میں، محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے ’آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ حفاظتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے فقدان کی وجہ سے ایجنسی سینٹری فیوجز جیسے اہم اجزا کی ایران میں پیداوار اور ذخیرے سے متعلق ’علم کے تسلسل‘ سے محروم ہو گئی ہے۔‘
بیان میں کوئی مخصوص شرائط نہیں بتائی گئیں کہ کن معلومات پر دو کروڑ ڈالر کا انعام ملے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کا ایٹمی پروگرام موثر انداز میں نیست و نابود کر دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی رات فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں کہا: ’اگر ہم ایران کو نشانہ نہ بناتے تو آج اسرائیل نہ ہوتا۔ اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتے۔ وہ مشرق وسطیٰ کو نیست و نابود کر دیتے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران تنازع ختم کرنے کے لیے بے تاب ہے، جس کے حوالے سے انہوں نے زور دے کر کہا کہ آٹھ ماہ کی جنگ میں اس کی معیشت اور فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم اب ان کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ شدت سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
ادھر لڑائی کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی کوشش میں ثالثوں کی سفارتی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔
منگل کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کی حکومت اب بھی بات چیت کے ذریعے بحران حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قبل ازیں رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اب بھی ایک یا دو اہداف سے ’نمٹنا‘ ہے، جن میں وسطی ایران میں نام نہاد پک ایکس ماؤنٹین بھی شامل ہے، جو کہ ایک مشتبہ ایٹمی مقام ہے لیکن تہران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ ایسی کوئی تنصیب ہے۔