ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ہفتے کی شام جنوبی ایران کے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم بھی شامل ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے امکان ظاہر کیا کہ ان دھماکوں کا تعلق اس اہم آبی گزرگاہ میں ایرانی فوجی سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے، جو فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے ان علاقوں میں کسی میزائل حملے کی تصدیق نہیں کی جب کہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جزیرہ قشم میں سنے جانے والے دھماکوں کا تعلق میزائل حملوں سے نہیں تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اتوار کی صبح بتایا کہ آبنائے میں ’غیر مجاز راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پاسداران انقلاب نے جن واقعات کا حوالہ دیا، کیا ان کا تعلق جنوبی ایران کے علاقوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازوں سے ہے؟
ایران نے ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبی گزرگاہ سے گزرنے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران اس آبنائے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے اور واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کو تسنیم خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ جزیرہ قشم پر دو میزائل گرے ہیں، تاہم ممکنہ نقصان کے حوالے سے کوئی سرکاری معلومات نہیں دی گئیں۔
اس سے قبل تین نومبر کو بھی امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے بعض اہداف بشمول جزیرے قشم میں اہداف پر دفاعی حملے کیے تھے۔ یہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل کیے گئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان دھماکوں کی اطلاعات جزیرے پر امریکی حملوں کے چند دن بعد سامنے آئی ہیں۔ ایک امریکی عہدےدار کے مطابق حملے محدود تھے اور کسی بڑی جنگی کارروائی کا دوبارہ آغاز نہیں تھا۔
امریکی فوج نے ہفتے کی شام بتایا کہ اس کی فورسز نے اس تجارتی جہاز کو ناکارہ بنا دیا جس نے ایران کے گرد امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش پر ان کے ایک طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا۔
خطے کے ممالک یہ توقع کر رہے تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کے چند ہفتوں کے دوران ایران پر حملے روک رکھے تھے، ووٹنگ ختم ہونے کے بعد دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا جواب پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا کر دے گا۔