امریکہ کا بڑا حصہ موسم سرما کے دوران آنے والے شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور اتوار کو اوہائیو ویلی اور مڈ ساؤتھ سے لے کر نیو انگلینڈ تک شدید برف باری، ژالہ باری اور بارش ہوئی۔ شدید سردی کے نتیجے میں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔
امریکہ کے مشرق میں ایک تہائی حصے کے بیشتر علاقوں میں طوفان وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ طوفان سے 11 کروڑ 80 لاکھ افراد طوفان سے متاثر ہوئے ہیں۔ شدید سردی سے نے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔ نیشنل ویدر سروس نے سفر میں وسیع پیمانے پر اور طویل خلل کی پیش گوئی کی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 15 کروڑ 70 لاکھ امریکی شہریوں کو کینیڈا کی سرحد کے ساتھ صفر سے کم درجہ حرارت سے لے کر جنوب میں خلیج میکسیکو تک نقطہ انجماد سے نیچے گرنے والی سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑے پہننے کی تنبیہ کی گئی۔
شدید سرد ہوا کے ساتھ تیز جھکڑ بھی چلے جن کی وجہ سے شمالی میدانی علاقوں میں ونڈ چل یعنی جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کی بنیاد پر سردی کے احساس کا پیمانہ منفی 50 درجے فارن ہائیٹ تک گر گیا۔
برف کی موٹی تہہ
جمعے کو طوفان بننے کے بعد سے شدید ترین برف باری، جو ایک فٹ یا اس سے زیادہ تھی، اتوار کو کولوراڈو، الینوائے، انڈیانا، مسوری، نیو جرسی، نیویارک اور پنسلوینیا کے کچھ حصوں میں ریکارڈ کی گئی۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے کہا کہ انہوں نے ریاست کی ہنگامی طوفانی صورت حال سے نمٹنے میں مدد کے لیے نیویارک سٹی، لانگ آئی لینڈ اور ہڈسن ویلی میں نیشنل گارڈ کے دستوں کو متحرک کر دیا ہے۔
برفباری، جم جانے والی برف اور تیز ہوا نے فضائی سفر کو خاص طور پر بری طرح متاثر کیا اور انڈسٹری ٹریکنگ سروس ’فلائٹ اویئر ڈاٹ کام‘ کے مطابق بڑی ایئر لائنز اتوار کے لیے شیڈول 11 ہزار سے زائد امریکی پروازیں منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
شمالی ورجینیا میں واشنگٹن سے دریائے پوٹومیک کے بالکل پار واقع رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ مؤثر طور پر مکمل بند ہو گیا۔
’فلائٹ اویئر‘ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک، فلاڈیلفیا شارلٹ اور شمالی کیرولائنا سمیت دیگر بڑے شہری علاقوں کے ہوائی اڈوں کی اتوار کی کم از کم 80 فیصد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
جنوب بھر میں بجلی کا تعطل وسیع پیمانے پر رہا، جہاں برف کی ایک انچ تک موٹی تہہ جم گئی جس سے درختوں کی شاخیں اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں گر گئیں۔
آن لائن پوسٹ کیے گئے یوٹیلیٹی ڈیٹا کے مطابق اتوار کو طوفان کے عروج کے وقت ٹیکسس سے کیرولائناز تک آٹھ ریاستوں میں 10 لاکھ سے زیادہ گھر اور کاروبار بجلی سے محروم ہو گئے۔ بجلی کی بندش کا سب سے زیادہ اثر ٹینیسی نے برداشت کیا، جو تمام تعطل کا تقریباً ایک تہائی تھا۔
’پاور آؤٹیج ڈاٹ یو ایس‘ کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر پانچ منٹ ای ایس ٹی (0005 جی ایم ٹی) تک 9 لاکھ 59 ہزار سے زیادہ صارفین بجلی سے محروم رہے۔
ہنگامی حالت کا اعلان
مڈ اٹلانٹک کے کچھ حصوں میں دن کے آغاز میں ہونے والی شدید برف باری کی جگہ ژالہ باری اور جمانے والی بارش نے لے لی، جس سے ڈرائیونگ کے حالات مزید خطرناک ہو گئے اور سڑکوں پر کام کرنے والے عملے کے لیے سڑکوں کی سطح کو محفوظ طریقے سے صاف کرنا مزید مشکل ہو گیا۔
ویدر سروس کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ مشرقی ساحلی پٹی کے اندرونی حصوں میں جنوب میں اٹلانٹا تک بہت زیادہ برف جمع ہو رہی ہے، کیوں کہ طوفان کا سبب بننے والا کم دباؤ کا سسٹم ایپالیچین کے پہاڑوں سے گزر رہا تھا۔
طوفان کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک درجن ریاستوں کے لیے وفاقی ہنگامی آفات کے اعلانات کی منظوری دی جو زیادہ تر مڈ ساؤتھ میں ہیں۔ 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے ہفتے کو موسمی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔
محکمہ توانائی نے ہفتے کو ایک ہنگامی حکم نامہ جاری کیا جس میں الیکٹرک ریلائبلٹی کونسل آف ٹیکساس کو ڈیٹا سینٹرز اور دیگر بڑی تنصیبات پر بیک اپ جنریشن کے وسائل استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا، جس کا مقصد ریاست میں بلیک آؤٹ کو محدود کرنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اتوار کو محکمہ توانائی نے گرڈ آپریٹر پی جے ایم انٹر کنکشن کو مڈ اٹلانٹک خطے میں ’مخصوص وسائل‘ استعمال کرنے کا اختیار دینے کے لیے ایک ہنگامی حکم نامہ جاری کیا، قطع نظر ریاستی قوانین یا ماحولیاتی اجازت ناموں کی وجہ سے عائد حدود کے۔
ویدر سروس نے کہا کہ اگرچہ پیر کو طوفان کے سسٹم کے مشرقی ساحل سے بحر اوقیانوس کی طرف بڑھنے کی توقع تھی، لیکن اس کے پیچھے مزید سرد ہواؤں کے آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی جو اگلے چند دنوں تک شدید سردی اور برفیلی صورت حال کو طول دیں گی۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے فوکس نیوز سنڈے بریفنگ پروگرام میں کہا کہ ’اس طوفان کے ساتھ صورت حال کافی منفرد ہے، صرف اس لیے کیوں کہ یہ کچھ عرصے تک سرد رہنے والا ہے۔ جو برف جو گری ہے ان (بجلی کی) لائنوں کو متاثر رکھے گی، چاہے وہ فوری طور پر نہ بھی گریں۔‘