پاکستان نے جمعرات کو افغانستان سے متعلق اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ہم افغانستان سے صرف قابل تصدیق، تحریری اور ٹھوس ضمانتیں اور ان پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ ’افغان طالبان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔ پاک افغان تعلقات پر یہ پاکستان کا پرانا موقف ہے۔‘
ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان میں عسکریت پسندی سے متعلق افغان طالبان سے اتنے صریح اور تفصیلی مطالبات کیے ہیں۔ ’یہ ضمانتیں افغانستان کے اپنے لیے بھی اچھی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان افغانستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ نہیں چاہتا۔ مارا مطالبہ انتہائی سادہ ہے کہ افغان شہری دیگر ممالک میں دہشت گردی میں استعمال نہ ہوں۔‘
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہ فریقی میکنزم جاری رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سہ فریقی میکنزم کے جاری رہنے پر پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں اتفاق ہوا تھا۔
’وزرائے خارجہ کے سہ فریقی میکنزم جاری رکھنا پاکستان کی مثبت عکاسی کررہا ہے۔‘
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی بھی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
’پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’صومالی لینڈ کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم نے مختلف فورمز پر صومالی لینڈ کی غیر قانونی ریاست کی مخالفت کی ہے۔ یہ برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔‘
انڈین وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی پھیلانے کے الزام پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان بھارتی وزیر خارجہ امور کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے۔
’یہ انڈیا کا ریکارڈ ہے کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا کے پاکستان پر الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو نہیں چھپا سکتے۔ انڈیا کو دوسروں کو وعظ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بدلنا چاہیے۔‘
اندرابی کا کہنا تھا کہ ’دہلی میں فیض الہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کا انہدام انڈیا کے مسلم کش اقدامات مہم کا حصہ ہیں۔
’یہ 1992میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کا تسلسل ہے۔ یہ اقلیتوں کے خلاف انڈین نفرت انگیز ہندوتوا مہم کا حصہ ہیں۔‘